.

مصر کی بندرگاہوں سے بیروت میں تباہ کن دھماکے کے بعد خطرناک مواد ہٹانے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر چار اگست کو تباہ کن دھماکے کے بعد اپنی بندرگاہوں کے گوداموں میں پڑے ہوئے خطرناک مواد کو ٹھکانے لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔

مصر کے وزیر خزانہ محمد معیط نے اتوار کے روز پارلیمان میں بتایا ہے کہ ’’ بیروت میں جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کے بعد ہم نے اپنی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور بندرگاہوں پر پڑے ہوئے خطرناک اور نظرانداز شدہ مواد کی بہت بڑی مقدار کو اب تک تلف کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’بندرگاہوں پر پڑے ہوئے مواد میں سے بھاری مقدار کو تیل ، دفاع اور داخلہ سمیت مختلف وزارتوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔آیندہ دسمبر تک ہم مصرکی تمام بندرگاہوں کو ایسے مواد سے پاک کردیں گے۔‘‘

مصری وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بندرگاہوں پرکنٹرول کے لیے کسٹمز کے نئے طریق کار کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

بیروت میں تباہ کن دھماکے کے بعد مصر کی شہری ہوابازی کی وزارت نے ہوائی اڈوں پر پڑے ہوئے مواد کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا تھا اور وہاں سے خطرناک اشیاء کو گذشتہ دنوں میں محفوظ گوداموں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

بیروت کی بندرگاہ پر ایک گودام میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ پڑی تھی۔اس میں پہلے چھوٹے دھماکوں کو آگ لگی تھی اور اس کے بعد زور دار دھماکا ہوا تھا ۔اس دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 180 سے متجاوز ہوچکی ہے اور چھے ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔بیروت شہر میں اس دھماکے کے بعد ہزاروں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئی تھیں اور کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔