.

ملکی پاسپورٹ ہونے کے باوجود شامی باشندے اپنے وطن میں داخلے سے محروم!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا 10 برس قبل شام میں جنگ کے آغاز کے وقت سے ہی یہ بات سامنے آتی رہی کہ مختلف ملکوں مثلا ترکی یا یونان وغیرہ کی سرحدوں پر وہ شامی پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں جو ان ملکوں میں پناہ کے طالب ہیں۔ تاہم شامی عوام اپنے ملک کی سرحد پر بھی پناہ گزین بن جائیں گے، اس امر نے بشار حکومت کے ہمنوا اور مخالف افراد کے اندر غم و غصے کے جذبات بھڑکا دیے ہیں۔

گذشتہ دنوں کے دوران شامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بات تکرار کے ساتھ سامنے آئی کہ شامی پاسپورٹ کے ساتھ آپ شام میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ تحقیق پر آپ کو یہ بات بڑی حد تک درست معلوم ہو گی کیوں کہ بشار حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ جاری کیا جا چکا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک شام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک اس کے پاس 100 ڈالر نہیں ہوں گے۔ اس رقم کو وہ سرحدی سرکاری گزر گاہوں پر موجود حکام کے ذریعے مقامی کرنسی میں تبدیل کرائے گا۔ تبدیلی کے نرخ بھی شامی حکومت کی جانب سے لاگو کیے جائیں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ "قادم" (آنے والا) کی اصطلاح میں دوسروں سے پہلے شامی باشندے شامل ہیں۔

شامی حکومت کے زیر انتظام امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل ناجی النمیر کے مطابق انہیں یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ جس فرد کے پاس بھی 100 ڈالر کی رقم نہیں اس کو واپس کر دیا جائے تاہم لبنانی حکام ان افراد کی واپسی قبول نہیں کرتے۔ لہذا جس شامی شہری کے پاس 100 ڈالر کی رقم نہیں ہوتی اس کے پاس ایک ہی آپشن ہوتا ہے کہ وہ اپنے کسی عزیز یا دوست کو فون کرے تا کہ وہ اس شہری کے لیے 100 ڈالر کا انتظام کرے۔ اس طرح اس رقم کو استعمال میں لا کر یہ شامی شہری نارمل طریقے سے اپنے ملک میں داخل ہو سکے۔

النمیر نے تصدیق کی ہے کہ جس شامی شہری کو 100 ڈالر نہ ہونے کے سبب داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی وہ سرحد پر بیٹھا اپنے معمولات زندگی اور کھانے پینے کی ضروریات پوری کر رہا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ بشار حکومت کے اس فیصلے نے شامیوں کے درمیان شدید ردود عمل اور ناراضگی کو جنم دیا ہے۔ اس دوران مذکورہ فیصلے کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ بالخصوص جب کہ معاملہ لبنان سے آمد و رفت کا ہو۔

شامی حکومت کے اس انوکھے فیصلے کے اسباب کے حوالے سے مبصرین نے دو مرکزی مقاصد بتائے ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ بشار حکومت کو غیر ملکی کرنسی کی ضرورت ہے تا کہ وہ شامی کرنسی لیرہ کے ایکسچینج ریٹ کو مستحکم رکھ سکے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ پڑوسی ممالک بالخصوص لبنان اور اردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لیے اضافی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تا کہ وہ واپس شام نہ آ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں