.

حزب اللہ کی معاونت پر لبنان کے دو سابق وزراء امریکی پابندیوں کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے منگل کے روز لبنان کے دو سابق وزراء یوسف فنیانوس اور علی حسن خلیل پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دونوں وزیروں پر "بدعنوانی" میں ملوث ہونے اور حزب اللہ ملیشیا کو سپورٹ کرنے کے الزامات ہیں۔ واضح رہے کہ واشنگٹن حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے ایک بیان میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "امریکا اصلاحات سے متعلق مطالبات میں لبنانی عوام کی حمایت کرتا ہے .. اور وہ لبنانی عوام کی آواز کچلنے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے پاس موجود تمام راستے استعمال کرے گا"۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق لبنان کی سابقہ حکومت میں جنرل ورکس کے وزیر یوسف فنیانوس اور وزیر خزانہ علی حسن خلیل حکومت سے باہر آنے کے باوجود بھی تک فعّال ہیں۔

لبنان کے دونوں وزراء پر عائد امریکی پابندیوں میں اثاثوں اور جائیداد کا منجمد کیا جانا شامل ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ یوسف فنیانوس نے حزب اللہ ملیشیا کے لیے کروڑوں ڈالروں کے حکومتی سمجھوتوں کو محفوظ بنایا جب کہ علی حسن خلیل نے اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ کو پابندیوں سے بچانے کے لیے مالی رقوم منتقل کرنے پر کام کیا۔

وزارت خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لبنانی حکومت کے اندر یا باہر حزب اللہ کی مدد کرنے والے ہر شخص کا احتساب کیا جائے گا۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق 2017ء سے اب تک حزب اللہ کی مقرب 90 شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا ہے کہ لبنانی عوام کے لیے واشنگٹن کی حمایت جاری رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے دہشت گرد ایجنڈے پر عمل درامد کے لیے اس لبنانی ملیشیا کی مدد کرنے والے ہر شخص کا احتساب کیا جائے گا۔

اپنی ٹویٹ میں پومپیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے آج لبنان کے دو سابق بدعنوان وزراء پر پابندیاں عائد کی ہیں .. جنہوں نے حزب اللہ ملیشیا کو مادی سپورٹ پیش کرنے کے واسطے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا۔