.

اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے مقابل سوڈان کے مطالبات کا پیکج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سوڈانی ذمے دار کے مطابق آج ایک اہم اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے جس میں امارات میں سوڈانی خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی امریکی ذمے داران کے ساتھ ملاقات کے نتائج کو زیر بحث لایا جائے گا۔

ذرائع نے عربی اخبار "الشرق الاوسط" کو بتایا کہ ملاقات میں ایک سمجھوتے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس کے تحت سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے سوڈان کو سات ارب ڈالر کی مالی سپورٹ پیش کرنے پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس سمجھوتے کا اعلان آئندہ دنوں میں کر دیا جائے گا۔

اخبار کے ذرائع کے مطابق سوڈان اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے پر ابتدائی طور پر آمادہ ہو گیا ہے۔ تاہم اس نے ابو ظبی میں ہونے والی بات چیت میں مطالبات کے ایک پیکج پر عمل درامد کی شرط رکھی ہے۔ ساتھ ہی اس نوعیت کے قانون پر مذاکرات کے لیے بھی زور دیا ہے جس سے مستقبل کے کسی بھی معاملے میں سوڈان کے عدم تعاقب کی ضمانت حاصل ہو جائے۔

عبوری کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امارات میں ہونے والی بات چیت کے دوران عرب اسرائیلی امن معاہدوں کے لیے سوڈان کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ خرطوم اس پیش رفت کو خطے کے استحکام کا راستہ شمار کرتا ہے۔

الشرق الاوسط اخبار کے ذرائع کے مطابق ابو ظبی میں تین روزہ بات چیت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر جریڈ کشنر کے ساتھ بھی رابطہ رہا۔

خرطوم میں سوڈانی عبوری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیر صدارت ایک مشترکہ اجلاس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں خود مختار کونسل اور وزراء کی کابینہ شریک ہو گی۔ اجلاس کا مقصد امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت بالخصوص اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے ایک یکساں موقف اختیار کرنا ہے۔ واضح رہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل بعض جماعتوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر اعتراض کیا ہے۔

اخبار کے مطابق توقع ہے کہ سوڈانی حکومت خلیج عدن میں امریکی جنگی جہاز "ایس ایس کُول" کے دھماکے کا شکار ہونے والوں کو زر تلافی ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ کینیا اور تنزانیا میں امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں کے متاثرین کے لیے بھی ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔

اس سے قبل سوڈان میں عبوری خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ابوظبی میں امریکی وفد کے ساتھ بات چیت میں عرب اسرائیل امن کے مستقبل کو زیر بحث لایا گیا۔ البرہان کے مطابق بات چیت میں دو ریاستی حل کے مطابق فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دیے جانے کو باور کرایا گیا۔ البرہان نے کہا کہ امریکی وفد کے ساتھ بات چیت کے نتائج کو سوڈان میں عبوری حکمراں اداروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔