.

تونس : النہضہ موومنٹ کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس میں سیاسی منظر نامے میں "النہضہ موومنٹ" کے غلبے پر روک لگانے اور ملکی سیاست کے میدان میں توازن کو مستحکم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سابقہ وزراء، ارکان پارلیمںٹ اور سیاسی شخصیات نے اتوار کے روز ایک نئی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نئی جماعت میں تونس کی سیاست کے کئی نمایاں چہرے شامل ہیں۔ ان میں سابق صدر بن علی کے دور حکومت میں اہم اپوزیشن رہ نما احمد نجیب الشابی ، سابقہ صدارتی انتخابات کی خاتون امیدوار سلمى اللومی اور سابق مرحوم صدر الباجی قائد السبسی کی قائم کردہ جماعت نداء تونس پارٹی کی باقیات کے علاوہ دیگر آزاد سیاسی شخصیات نمایاں ہیں۔

جماعت کے تاسیسی بیان کے مطابق اس نئے سیاسی منصوبے کا مقصد "سیاسی تبدیلی کو مستحکم کرنا، ریاست کو بلیک میلنگ سے نجات دلانا، سیکورٹی فورسز کے مراکز کی جانب سے شہریوں اور ان کے دفاع کی آزادی سلب کیے جانے کو ختم کرنا، انصاف قائم کرنا اور انتخابی قانون میں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی منظرنامے کو تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح حکومت کے سیاسی استحکام اور پر امن منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے گا"۔ بیان میں النہضہ موومنٹ کی جانب سے بنیادی حقوق کی سلبی اور ریاستی اداروں پر اس کے کنٹرول کی جانب اشارہ کیا گیا۔ ان اداروں میں پارلیمنٹ سرفہرست ہے۔ واضح رہے کہ 2011ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے النہضہ موومنٹ تونس کے عوام کے حالات بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔

یاد رہے کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز سے چند روز قبل النہضہ موومنٹ کے پاس 54 نشستیں ہیں۔ وہ پارلیمانی فرنٹ کی سربراہی انجام دے رہی ہے جس میں 100 سے زیادہ ارکان شامل ہیں۔

یہ بات خارج از امکان نہیں کہ اگر نئی سیاسی جماعت خود کو متعارف کرانے اور عوامی پلیٹ فارم تخلیق دینے میں کامیاب ہو گئی تو وہ متعدد ارکان پارلیمنٹ کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے۔ بعد ازاں یہ جماعت النہضہ موومنٹ کی مخالف قوتوں کے ساتھ اتحاد تشکیل دے سکتی ہے۔

نئی سیاسی جماعت کی تاسیس کے بیان پر دستخط کرنے والی شخصیات کے نزدیک تونس کو آج سیاسی زندگی میں پیش رفت کی ضرورت ہے جو ملک کے تہذیبی ورثے کی مدد سے حاصل مشترکہ اقدار پر قائم ہو۔