.

سعودی آرٹسٹ نے لوہے کی کیلوں اور دھاگے سے فائن آرٹ کے نمونے تیارکر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں نوجوانوں کی جانب سے فائن آرٹ کو اجاگر کرنے کے نت نئے نمونے سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں ایک ایسا نوجوان آرٹسٹ بھی شامل ہے جس نے سوئی دھاگے اور لوہے کی کیلوں کی مدد سے لکڑی کی تختیوں پر خوبصورت 'تھری ڈی' فن پارے تیار کرکے اس فن کو ایک نئی جہت سے روش ناس کیا ہے۔

آرٹسٹ عبدالوھاب الدائل نے اپنے فن کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تعلیم کو مارکیٹنگ اور ناول نگاری میں حاصل کی مگر اسے فائن آرٹ میں کچھ نیا کرنے کا شوق تھا جس نے اسے اس میدان میں اتار دیا۔ اس نے آہنی کیلوں، دھاگے اور سوئی کی مدد سے فائن آرٹ کے نمونے تیار کرنے کا فیصلہ کیا

اس نے بتایا کہ حال ہی میں اس نے شاہ سلمان کی یک پینٹنگ تیار کی۔ اس کی تیاری میں اسے ایک ماہ کے 154 گھنٹے صرف کرنا پڑے۔ اس نے اپنی یہ پینٹنگ 90 ویں قومی دن کے موقعے پر پیش کی۔ عبدالوھاب نے بتایا کہ اس کی یہ پینٹنگ بہت مقبول ہوئی اور میرے دو بھائیوں نے اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس میں کئی معانی پہناں ہیں۔

اس نے بتایا کہ فائن آرٹن کے نمونوں کی تیاری کے دوران اس نے سعودی عرب کے نقشے اور قومی پرچم کو فن کارانہ مہارت کے ساتھ ایک دوسرے میں سمو دیا۔ یہ پینٹنگ 160/120 سینٹی میٹر کی تھی۔ اس میں استعمال ہونے والے کیل کانٹوں سے اس کا وزن کافی بڑھ گیا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی آرٹسٹ نے بتایا کہ آرٹ کی دنیا میں اسے 'اسٹرینگ آڑٹ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں دھاگے کے ذریعے فیلوگرافک تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔ شخصیات کی مصوری،نعرے، سلوگن اور نام تحریر کیے جاتے ہیں۔ ان تصاویر پر لگے کیلوں کو چھونے سے ایسے لگتا ہےکہ یہ تھری ڈی تصاویر ہیں۔

عبدالوھاب کا کہنا تھا کہ اس نے یہ فن حالیہ کرونا کے ایام میں گھروں میں قرنطینہ کے دوران چھ ماہ میں سیکھا۔