.

دوحا ہوائی اڈے پرخواتین سے ناروا سلوک کے عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے دارالحکومت دوحا کے حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈیڑھ ماہ قبل خواتین کے ساتھ ہونے والی مبینہ بدسلوکی اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ایک نئے اسکینڈل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے کے ایک عینی شاہد نے خواتین کے حقوق کی حمایت کی مہم چلاتے ہوئے قطری سیکیورٹی اہلکاروں کے ناروا برتائو کی تفصیلات بتاتے ہوئے قطری حکام کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہوائی اڈے پرجب قطری سیکیورٹی اہلکار ایک ہوائی جہاز میں گھس کر خواتین کی تذلیل کر رہے تھے 'ولف گانگ بابیک' یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے جمعرات کو العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قطرکے حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آسٹریلیائی خاتون مسافروں پر قطری حکام نے ہلہ بول دیا اور اس بات کی کوئی رعایت نہیں کی کہ وہ خواتین ہیں اور طویل سفر کرکے وہاں پہنچی ہیں۔

بابیک نے بتایا کہ ہمیں دوحا پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ 'ہم نے دیکھا کہ قطری سیکیورٹی کے افسران ہوائی جہاز پر سوار ہوئے اور مسافروں کو اتارنا شروع کر دیا'۔ بابیک نے کہا قطری سیکیورٹی عملے نے خواتین مسافروں کو طیارے سے اُترنے کا حکم دیا اور ان کی جسمانی حالت کی پروا کیے بغیر انہیں لے گئے۔

عینی شاہد نے نشاندہی کی کہ خواتین مسافر اب بھی صدمے میں ہیں اور وہ نفسیاتی علاج کرا رہی ہیں۔ میں محتاط رہوں گا تا کہ خواتین مسافروں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی وجہ سے مزید معلومات کا تذکرہ نہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوحا کی پرواز کی متاثرین اپنے حقوق تلاش کر رہی ہیں معاوضہ نہیں۔ مجھے خواتین مسافروں کے حقوق کے دفاع کے لیے ایک وکیل کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بابیک نے کہا کہ خواتین نے دوحا ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں کی توہین آمیز جانچ پڑتال کی۔ ہم دوحا ہوائی اڈے کے تجربے کو دہرانے کے خواہاں نہیں ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے وہ خواتین کے ساتھ ہونے والے تشدد اور امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ خواتین جنھیں دوحہ فلائٹ میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی تلافی لازمی ہونا چاہیے

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اخبار "نیو یارک ٹائمز" کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے متاثرین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو جنسی جرم قرار دیا ہے۔

ہوائی اڈے کے سکیورٹی عملے کی جانب سے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ بدسلوکی اکتوبر کے آخر میں ہوئی جب دوحا سے سڈنی جانے والی خواتین مسافروں نے اطلاع دی کہ ان کی توہین آمیز تلاشی لی گئی ہے۔ اس دوران انہیں قطری دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر کپڑے اتارنے اور طبی معائنے کروانے پر مجبور کیا گیا۔

متاثرہ خواتین میں سے ایک نے بتایا کہ انہیں اپنے طیارے سے اتار دیا گیا۔ پھر اُنہیں رن وے پر ایمبولینسوں میں بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔ ہوائی اڈے کے سیکیورٹی حکام نے انہیں ایک میز پر لیٹ جانے اور ان کا انڈرویئر اتارنے کا حکم دیا۔ ایک آسٹریلیائی نرس نے "نیو یارک ٹائمز" اخبار کو بتایا کہ اس نے معائنہ کے لیے اپنی رضامندی ظاہرنہ کی تو اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اس واقعے نے بڑے پیمانے پر عالمی غم و غصے کو جنم دیا۔ آسٹریلیائی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے خواتین کے ساتھ سلوک کو "خوفناک" قرار دیا۔

اس کے علاوہ ، آسٹریلیائی حکام نے تصدیق کی کہ قطر ایئرویز کی پرواز نمبر 908 میں 18 خواتین کی تلاشی لی گئی جن میں 13 آسٹریلوی بھی تھیں۔ قطری عہدیداروں نے کل 10 پروازوں کو نشانہ بنایا۔ قطری حکومت نے ہوائی اڈے پر خواتین کے ساتھ پیش آئے واقعے کی غلطتی تسلیم کرتے ہوئے اس پر متاثرہ خواتین سے معافی مانگی ہے۔ تاہم ساتھ ہی قطری حکام کا یہ بھی کہنا ہےکہ تلاشی کے عمل میں‌ خواتین مسافروں کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوئی۔