.

لیبی فوج نے 'ترکی' کا تجارتی بحری جہاز قبضے میں لے لیا، عملے سے تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایک تجارتی بحری جہاز کو قبضے میں لیا۔ لیبی فوج کا کہنا ہے کہ علاقائی پانیوں میں داخل ہونے اور سمندری ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی پر تجارتی جہاز کو روکا گیا ہے اور اس کی تلاشی لینے کے ساتھ اس کے عملے سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔

لیبیا کی فوجی دستوں کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے پیر کی شام ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ جمیکا کے پرچم بردار ایک تجارتی کارگو جہاز جس کو "مبروکہ" کا نام دیا گیا ہے کو جبل الاخضر میں راس ہلال کے ساحل سے لیبیا کے علاقائی پانی میں داخل ہونے پر روک دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ جہاز مصراتہ بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا اور اس پر رکی کے 9 افراد سوار تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کو روک کر راس ہلال کی بندرگاہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جہاز کو ممنوعہ فوجی علاقے کی طرف بڑھنے سے روکنے کی وارننگ دی گئی اور اسے اپنی شناخت ظاہر کرنے کو کہاگیا تاہم جہاز کی طرف سے وارننگ پرعمل درآمد نہیں کیا گیا جس کے بعد جہاز کو گھیرےمیں لے لیا گیا۔ جہاز پر ترکی کے 9 ، بھارت اور آزار بائیجان کے سات افراد سوار ہیں۔