.

سعودی طالب علم نے برطانیہ میں امراض قلب کے میدان میں ایک نیا معرکہ کیسے سر کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے شہر آبرڈین میں اسپتالوں کا معیاری ڈیٹا بیس قائم اور تیار کرکے ایک سعودی طالب علم نے جوہری طب تکنیک کے استعمال سے دل کے مریضوں کی تشخیص میں ایک نئی سائنسی تحقیقی کامیابی حاصل کی ہے۔

برطانیہ میں واقع یونیورسٹی آف آبرڈین کے ڈاکٹریٹ کے طالب علم بندر الودعانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ میں نے برطانوی شہر آبرڈین کے باشندوں کے لیے ایک معیاری ڈیٹا بیس تیار کیا ہے اور اسے نیوکلیائی دوائی کی تکنیکوں کے استعمال کے پرفیوژن امیجنگ پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کام کی اہمیت یہ بتاتی ہے کہ پہلے استعمال شدہ معیاری ڈیٹا بیس شہر کے مقامی مریضوں کو سامنے رکھ کر نہیں‌بنایا گیا بلکہ یہ امریکا کے کیلیفورنیا کے مریضوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

جازان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اسکالرشپ کے طالب علم الودعانی نے بتایا کہ ان کی سائنسی اور تحقیقی کوششوں میں برطانوی شہر آبرڈین میں مقامی مریضوں کے لیے ایک نیا معیاری ڈیٹا بیس بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس دوران اس نے جوہری طب میں مایوکارڈیل پرفیوژن امیجنگ کے لیے ایک پروگرام میں استعمال شدہ خودکار ڈیٹا بیس کے اعدادوشمار کا موازنہ کیا۔ مقامی لوگوں اور کیلیفورنیا کے رہائشیوں کے مابین ڈیٹا میں فرق تھا اور یہ درست نہیں تھا۔

اس نے مزید کہا کہ اس نے مقامی آبادی کے اعداد و شمار کو امراض قلب کی انتہائی درست تشخیص کے لیے استعمال کیا۔ اس کا تیارکردہ ڈیٹا بیس ابرڈین کے اسپتالوں میں استعمال کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔

سعودی طالب علم الودعانی کے اکیڈمک سپروائزر ڈاکٹر فرگس میک کیڈی جو کہ خود بھی جوہری طب کے ماہر ہیں نے الدعانی کی کاوش کو ایک کارنامہ قرار دیا۔