.

غزہ میں جمناسٹک کے شائقین اب مکمل سامان کے ساتھ جسمانی کرتبوں کا مظاہرہ کرسکتے ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے محاصرہ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کے مکین نوجوانوں کو جسمانی ورزشوں اور جمناسٹک کے جوہر دکھانے کے لیے اب ایک محفوظ جگہ مل گئی ہے جہاں انھیں ہر طرح کا سامنا مہیّا کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں غزہ کے مکین نوجوان قبرستانوں یاخالی عمارتوں میں ورزشیں یا جمناسٹک کے مظاہرے کرتے تھے۔اس دوران میں اکثر وہ جمپ لگاتے ہوئے زخمی ہوجاتے تھے۔

لیکن اب غزہ میں لکڑی کے تختوں اور گدوں سے آراستہ جیم قائم کردیا گیا ہے۔ وہ وہاں الٹی ، سیدھی قلابازیاں لگاسکتے ہیں،چھلانگیں لگا سکتے اور ڈنٹرپیل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسمانی کرتبوں پر مشتمل پارکور کا کھیل فرانس میں پروان چڑھا تھا،غزہ میں اس کی پندرہ سال قبل آمد ہوئی تھی۔اس کھیل کی بدولت محصورین غزہ کو ایک ایسے علاقے میں ایک منفرد آزادی کا احساس ہوتا ہے جس کا اسرائیل نے تین اطراف سے برّی اور بحری محاصرہ کررکھا ہے۔

غزہ میں اس نئی اکادمی کے کوچ جہاد ابو سلطان کا کہنا ہے کہ ’’میں گذشتہ تیرہ سال سے رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لے رہا ہوں۔اس عرصے کے دوران میں مجھے کئی ایک چوٹیں لگی ہیں۔ان میں سب سے بدترین میری کلائی پرلگی تھی۔اس کی وجہ سے میں ایک سال تک اس کھیل میں حصہ نہیں لے سکا تھا۔‘‘

ان کی اس اکادمی کے تین ماہ کے مفت تربیتی کورس میں قریباً 70 ایتھلیٹوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ان میں مردوخواتین دونوں شامل ہیں۔ ان کی عمریں چھے اور 26 سال کے درمیان ہیں۔ان کےعلاوہ دسیوں انتظار کی قطارمیں میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے اندراج کے منتظر ہیں۔

غزہ کے پہلے پارکور گروپ کے شریک بانی ابو سلطان کا کہنا ہے کہ انھوں نے خان یونس کے مہاجرکیمپ میں واقع ایک قبرستان میں جسمانی کرتبوں میں حصہ لینے کا آغاز کیا تھا۔اس دوران میں ان کے متعدد ساتھی زخمی ہوگئے تھے اور وہ پھر اس کھیل کو خیرباد کہہ گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں:’’ پہلے تو تحفظ اور سلامتی کے کوئی انتظامات نہیں تھے لیکن اب اس ہال میں تمام بندوبست کردیا گیا ہے اور اس پہلی اکادمی میں ہم زخموں سے بچ سکتے ہیں۔اب تمام کھلاڑی آزادانہ جمناسٹک یا جسمانی کرتبوں کا مظاہرہ کرسکیں گے۔‘‘

17 سالہ محمد المصری کا کہنا تھا کہ ’’پہلے جب ہم اسکولوں میں پارکور کا مظاہرہ کیا کرتے تھے تو پولیس ہمارا پیچھا کیا کرتی تھی اور ہم جسمانی کرتبوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرے سہمے رہتے تھے لیکن اب میں یہاں محفوظ طریقے سے اس کھیل کا مظاہرہ کرسکتا ہوں۔‘‘