.

دمشق : قذافی کی بہو کی کس حرکت نے بڑا اسکینڈل بنا دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک سیکورٹی ادارے نے سرکاری طور پر "الین سکاف" کی گرفتاری کی ہدایات جاری کی ہیں۔ الین لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے ہانبیال کی بیوی ہے۔ الین پر الزام ہے کہ اس نے دمشق کے ایک علاقے میں تین پولیس اہل کاروں اور دو راہ گیر شہریوں کو اپنی تیز رفتار گاڑی سے کچل دیا تھا۔

عربی روزنامے الشرق الاوط نے خصوصی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ الین کی گرفتاری کی ہدایات جاری ہونے سے قبل ایک اہم انکشاف ہوا تھا۔ اس کے مطابق سیکورٹی اداروں اور پولیس نے الین کا محاصرہ کر لیا تھا جو اس وقت ہذیانی کیفیت کا شکار تھی۔ تاہم ایک با اثر شخصیت نے معاملے میں مداخلت کر کے قذافی کی بہو کو حراست میں لیے جانے سے روک دیا۔ مذکورہ شخصیت نے شامی لہجے میں کہا کہ "اسے چھوڑ دو، اس کا مجھ سے تعلق ہے"۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران شامی عوام کی جانب سے الین کی اس حرکت پر شدید غم و غصے سے بھرپور رد عمل سامنے آیا ہے۔

واقعے کی ایک عینی شاہد خاتون کے مطابق اس روز مقامی آبادی نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس پر انہیں مسلح جھڑپ کا گمان ہوا۔ تاہم لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ وہاں نشے میں دھت ایک خاتون سیکورٹی اہل کاروں اور ملک کے سینئر ترین ذمے دار کو گالیاں دے رہی تھی۔

معلومات سے واضح ہوا ہے کہ الین سکاف ایک سیاسی پناہ گزین کے طور پر دمشق کے پوش ترین علاقے المالکی میں رہ رہی ہے۔ اسے سیکورٹی اداروں کی جانب سے تحفظ حاصل ہے۔ البتہ ابھی تک اس شامی شخصیت کی شناخت کا انکشاف نہیں ہوا جس نے معاملے میں مداخلت کر کے الین کو حراست میں لیے جانے سے روک دیا تھا۔

شامی سرکاری حکام کی جانب سے واقعے پر پردہ ڈال کر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ تاہم شامی اپوزیشن کی ویب سائٹس پر اس کہانی کی تفصیلات اور تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ الین تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک سڑک پر ٹریفک کی مخالف سمت سے داخل ہوئی۔ اس پر ٹریفک پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر الین نے غصے میں آ کر پولیس اہل کاروں اور بعض راہ گیروں پر گاڑی چڑھا دی۔ اس دوران الین کے ہمراہ سیکورٹی کی گاڑی نے فائرنگ کر دی اور ان کی سیکورٹی فورس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ یہاں تک کہ ایک پراسرار شخصیت نے آ کر قصے کو رفع دفع کیا اور الین اس کے ساتھ چلی گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق زخمی پولیس اہل کاروں اور راہ گیروں کو جائے وقوع کے نزدیک ایک ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔ تاہم ان کے نام اور ان کی طبی حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔