.

لبنان: احتجاجی عناصر کے ہاتھوں طرابلس بلدیہ کی عمارت نذر آتش، حریری کا بیان جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں احتجاجیوں نے شہر کی بلدیہ کی عمارت میں آگ لگا دی۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شب پیش آیا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین نے عبدالحمید کرامی اسکوائر سے طرابلس کی بلدیہ کا رخ کیا اور پھر اس کی عمارت پر پتھراؤ کیا اور آتش گیر بم پھینکے۔ اس کے نتیجے میں عمارت کے اندر بڑی آگ بھڑک اٹھی۔

بعد ازاں فائر بریگیڈز کی گاڑیاں طرابلس کی بلدیہ کی عمارت پہنچیں۔ اس کے عملے کو آگ بجھانے میں دشواری پیش آئی جو عمارت کی مختلف منزلوں میں لگی ہوئی تھی۔ لبنانی سیکورٹی فورسز نے عمارت میں آگ بھڑکانے کے عمل میں شریک افراد کا تعاقب کیا۔

احتجاجی مظاہرین نے طرابلس میں سیاسی رہ نماؤں کے گھروں کے آگے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس دوران کچرے کے ڈرموں کو آگ لگا دی گئی اور سیکورٹی کیمروں کو توڑ دیا گیا۔ احتجاجیوں نے عوام کے ابتر معاشی حالات کا ذمے دار شہر کے سیاست دانوں کو ٹھہرایا۔

طرابلس میں جمعرات کے روز سیکورٹی فورسز اور مشتعل احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے کا نام عمر طیبا ہے اور اس کی عمر 30 برس تھی۔

مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے مطابق احتجاجیوں نے طرابلس میں ایک سرکاری عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جس پر انسدادِ ہنگامہ آرائی فورس نے فائرنگ کر دی۔ واقعے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

طرابلس شہر کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لبنان کے نامزد وزیر اعظم سعد حریری نے ایک بیان میں کہا کہ "طرابلس میں جمعرات کی شب جو کچھ ہوا وہ ایک منظم مجرمانہ عمل ہے۔ اس کی ذمے داری ان عناصر پر ہے جو شہر کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے سرکاری اداروں اور بلدیہ کو آگ لگائی اور سڑکوں پر انارکی پھیلائی ... طرابلس میں آگ لگانے کے واقعات میں ملوث عناصر کا تعقل اس شہر سے نہیں ہے۔ کسی بھی معاشی یا سیاسی نعروں کے تحت طرابلس کو برباد کرنا قابل قبول نہیں ہو گا"۔

حریری کا کہنا تھا کہ "ہم طرابلس اور شمالی لبنان میں اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سب کا یہ سوال ہے کہ شہر کی بلدیہ اور دیگر تنصیبات کو نذر آتش کرنے پر فوج تماشائی بن کر کیوں کھڑی رہی ،،، اگر فوج طرابلس کی حفاظت سے پیچھے ہٹ جائے گی اور پھر اس کا تحفظ کون کرے گا ؟