.

کیا بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب دھماکے میں ایران کا ہاتھ ہے؟

لشکرہند گروپ کون ہے اور اس کا سلیمانی اور فخری زادہ سے کیا تعلق ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں چند روز قبل اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد اس کی تازہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملےکی ذمہ داری 'لشکر ہند' نامی ایک گروپ نے قبول کی ہے اور مزید حملوں کی دھمکیاں دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے اس حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

درایں اثنا اسرائیلی ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب دھماکے میں ملوث گروپ 'لشکر ہند' کا تعلق ایران سے ہے۔

بھارتی اخبار'انڈیا ٹوڈے' کی رپورٹ میں ہفتے کے روز بھارتی پولیس کے ایک ذریعے کےحوالے سے بتایا گیا تھا کہ دھماکی جگہ سے اسرائیلی سفیر کے نام ایک پیغام ملا ہے جس میں مقتول قاسم سلیمانی اور ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے نام درج تھے۔
خیال رہے کہ قاسم سلیمانی کو تین جنوری 2020ء عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی حملے میں ہلاک کردیا تھا جب کہ محسن فخری زادہ کونومبر 2020ء کو تہران میں ایک پراسرار حملے میں مارا گیا۔

بھارتی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر کے نام پیغام میں فخری زادہ اور قاسم سلیمانی کے ناموں سے پتا چلتا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی لیڈروں کےقتل کا انتقام تھی۔

خیال رہے کہ بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گذشتہ جمعہ کو کم شدت کا ایک دھماکہ ہوا جس میں تین گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئےتھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دھماکہ ایک ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا جسے اسرائیلی سفارت خانے کے قریب پلاسٹک کے ایک بیگ میں ایک درخت کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔

نئی دہلی پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس دھماکے کا مقصد ایران کی طرف سے اسرائیل کو پیغام دینا تھا۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر یوم جمہوریہ کی ایک تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، صدر رام ناتھ کوویند اور نائب صدر ام وینکایاہ ناڈو سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات موجود تھیں۔

واقعے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شینکر نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیبی اشکنزئی سے ٹیلیفون پر بات کی اور بھارت میں اسرائیلی سفارتی مشن کو بھرپور تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔