.

امریکا کا ایران کے ساتھ مذاکرات کی جانب واپسی کا اعلان مشرق وسطی میں تشویش کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے آخری مرتبہ جب ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کی کوشش کی تو اسرائیلی حکومت کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کو بارہا ایک "تاریخی غلطی" قرار دے چکے ہیں۔

جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی طرف واپس کی کوشش کے اعلان نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی سخت رد عمل کو جنم دیا ہے جو ایران کے ساتھ فراخ دلانہ قربت کے مخالف ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق خطے میں سرگرم ممالک ابھی تک ایران کے ارادوں کے حوالے سے خبردار ہیں۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ وہ اسی صورت میں اس سمجھوتے کو قبول کر سکتے ہیں اگر ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل پروگرام، دیگر ممالک میں مداخلت اور عراق، لبنان اور یمن میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر روک لگائی جائے۔

نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں مذاکرات کے حوالے سے امریکا کے ارادے پر براہ راست تبصرے سے گریز کیا گیا۔ بیان کے مطابق اسرائیل اب بھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر کاربند ہے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے اسرائیل کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

سماجی امور کے اسرائیلی وزیر تساحی ہنگبی کے مطابق اسرائیلی حکومت بنیادی طور پر مذاکرات کی مخالف نہیں مگر وہ اس معاہدے سے بہتر سمجھوتے کی خواہاں تھی جو 2015ء میں طے پایا۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک نے اس معاہدے کی مذمت کی تھی۔ اس لیے کہ مذکورہ معاہدے کے تحت ایرانی جوہری سرگرمیوں پر قیود 15 برس کے اندر ختم ہو جائیں گی اور اس سمجھوتے نے مشرق وسطی کے راستے ایران کی عسکری سرگرمی کو محدود کرنے کے واسطے کچھ نہیں کیا۔

ہنگبی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایسا سمجھوتا طے پائے جو کم از کم 50 برس کی مدت کا ہو۔ اس کے علاوہ کوئی بھی شے ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے کا ہدف یقینی نہیں بنائے گی"۔

دوسری جانب خطے کے علاقائی ممالک نے جمعے کے روز خاموشی اختیار کیے رکھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ممالک آخری مذاکرات سے دور رکھے جانے پر غصہ محسوس کرتے ہیں۔

ادھر اسرائیل کی عسکری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عاموس یادلین کا کہنا ہے کہ کم از کم ابتدا میں جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسی کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے تحفظات اُس موقف سے کم جارحانہ ہیں جو سابق صدر باراک اوباما کے دور میں سامنے آیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عملی طور پر وہ (اسرائیلی حکام) براہ راست شکل میں بائیڈن انتظامیہ کا مقابلہ نہیں کریں گے، وہ تھوڑا انتظا کریں گے تا کہ یہ دیکھ لیں کہ آیا ایرانیوں کی جانب سے کیسا موقف سامنے آ رہا ہے اور مذاکرات کس رخ پر جا رہے ہیں۔