جانیے ریڑھ کی ہڈی کے بارے میں 9 حقائق !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اکثر کمر کے درد کا شکار رہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ کے اندر اپنے ساتھی انسانوں سے زیادہ چمنزی کی باتیں قدر مشترک ہیں۔ اس بات کا انکشاف سائنسی اخبار "Discover" کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ان باتوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو آپ اپنی کمر کے بارے میں شاید پہلے نہ جانتے ہوں۔

علمی پیش رفت کے ذریعے سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ انسانوں میں کمر کا درد بچپن کے دور میں معمول سے تیز نشونما کا نتیجہ ہوتا ہے جس زمانے میں وہ دونوں پاؤں پر چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں سے زیادہ کمر کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔

2015 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ مستقل طور پر کمر کے درد میں مبتلا رہتے ہیں ان کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں چمپنزی کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے مماثل ہو سکتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی کی ہیئت سے قطع نظر یہ بات معروف ہے کہ انسان کی ریڑھ کی ہڈی میں 33 مہرے ہوتے ہیں۔ ان میں 7 گردن میں، 12 چھاتی میں، 5 کمر میں، 5 کولھوں میں اور 4 کمر کے نیچے ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے میں ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بات آپ کو نہیں معلوم ہوگی کہ 32 سے 35 سال کی عمر کے ایسے لوگ ہیں جن کے اس تعداد میں مہرے نہیں ہوتے اور وہ کمر کے درد کا شکار رہتے ہیں۔

کمر کے نچلے حصے کا درد جو ہمارے آج کے دور میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ پرانے وقتوں میں (پتھر کے دور میں) انسان بھاری بھرکم جسمانی سرگرمیوں کے باوجود اس درد کا زیادہ شکار نہ ہوا۔ اس بات کا انکشاف 2008 میں ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا جس کے نتائج ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ایک یورپی جریدے میں شائع ہوئے تھے۔

سائنس داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ابتدائی زمانے کے انسانوں کی بہتر صحت کا ایک راز یہ بھی تھا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط عضلات (پٹھوں) کی سپورٹ حاصل ہوتی تھی جس کی وجہ سے وہ مناسب طور پر جھک سکتے تھے۔

کمر کا درد، اس کی تشخیص اور علاج کے طریقے... ان کا 1600 قبل مسیح میں قدیم مصری دستاویزات میں اندراج کیا گیا۔ بعد ازاں اس دستاویز کو ماہر آثار قدیمہ ایڈون اسمتھ کے نام سے جانا گیا جس نے اس دستاویز کو 1862 میں خرید لیا تھا۔ اس ریکارڈ کے اندر ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے مرض کی تشخیص اور علاج کا طریقہ کار جزوی صورت میں ملتا ہے۔

چین میں 2700 قبل مسیح میں جگہ سے ہٹ جانے والے مہروں کے علاج کی کوششیں کی جا رہی تھیں تاہم جدید زمانے میں ریڑھ کی ہڈی کی درستی کے لیے کوششوں کا آغاز 1895 میں اس وقت ہوا مقناطیس سے علاج کرنے والے ایک معالج ڈیوڈ پامر نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بہرے شخص کی ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ صحیح جگہ پر لا کر اس کی سماعت کو بحال کر دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مہروں کا بگاڑ یا ان کا اپنی جگہ سے ہل جانا 95٪ امراض کی وجہ ہے۔

2012 میں انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اِن میڈیسن کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں باور کرایا گیا کہ اس بات کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں کہ مہروں کی بے ترتیبی کا انکشاف یا ان کی درستی کسی طور فائدہ دیتے ہیں۔

اختتام پر یہ بات کہ بہت ضروری ہے کہ ہم مستقل طور پر اپنی کمر کا خیال رکھیں... جیسا کہ 1949 میں منظر عام پر آنے والے مغربی ناول "Milk River Range" میں مصنف لی فلورین نے اس عبارت پر زور دیا ہے کہ "Watch your back" یعنی اپنی "کمر کا خیال رکھیے"....

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں