.

ہمارے بحری جہاز کو ایران نے نشانہ بنایا: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "ایران واضح طور پر جمعے کے روز خلیج میں اسرائیلی بحری جہاز کو دھماکے کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا ذمے دار ہے"۔

پیر کے روز اپنے بیان میں نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "یہ بات عیاں ہے کہ جہاز پر حملہ ایران کا کام ہے ،،، وہ اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن جو ٹھہرا"۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی فورسز پورے خطے میں ایران کو نشانہ بنائیں گی۔ نیتن یاہو نے دو ٹوک انداز میں باور کرایا کہ "ایرانیوں کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیار ہر گز نہیں آئیں گے ... نہ معاہدے کے ساتھ اور نہ اس کے بغیر ... یہ بات میں نے اپنے دوست جو بائیڈن کو بھی بتا دی ہے "!.

اس سے قبل اسرائیلی فوجی ذرائع نے گذشتہ روز تصدیق کی تھی کہ اسرائیل اپنے بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے جوابی کارروائی پر غور کر رہا ہے ،،، اس لیے کہ ایران کی جانب سے شہری ہدف کو نشانہ بنانا سرخ لکیر کو پار کرنا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مذکورہ ذرائع نے غالب گمان کا اظہار کیا کہ گذشتہ روز دمشق کے اطراف ہونے والے حملے اسرائیلی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب کا حصہ تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی کارروائی کے پیچھے غالبا ایران کا ہاتھ ہے۔