.

عالمی صحرائی ریس کے مقابلے میں شامل سعودی خاتون مہم جو سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جاری عالمی صحرائی ریلی کے بین الاقوامی مقابلے میں شامل دیگر مقامی اور غیر ملکی مہم جوئوں میں ایک سعودی خاتون بھی شامل ہیں جو مملکت میں صحرائی علاقے میں موٹرسائیکل ریس کے مقابلے میں پہلی بار شرکت کر رہی ہیں۔

چار مارچ سے 6 مارچ تک جاری رہنے والے صحرائی عالمی کپ مقابلے میں شریک دانیہ عقیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مقابلے میں اپنی جیت کے لیے پرعزم ہیں۔

دانیہ عقیل کا کہنا ہےکہ مختصر فاصلے کی صحرائی ریلی میں وہ پوری تیاری کے ساتھ شرکت کر رہی ہے۔ یہ مقابلہ مشرقی باھا میں دو مراحل میں ہوگا جس میں مجموعی طور پر 422 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوگا۔

دانیہ عقیل نے موٹرسائیکل مقابلوں حصہ لینے سے قبل برطانیہ میں اپنی تعلیم کے دوران باقاعدہ موٹرسائیکلنگ کی تربیت حاصل کی۔ تاہم سعودی عرب کی تاریخ میں کسی خاتون کا ریتلے صحرائی علاقے میں ہونے والے موٹرسائیکل مقابلے میں شرکت کا یہ پہلا موقع ہے۔ اس نے موٹرسائیکل چلانے کے ساتھ برطانیہ میں انٹرنیشنل بزنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے دانیہ عقیل کا کہنا تھا وہ ایک کتاب لکھ رہی ہیں جس میں وہ ان مقابلوں کا احوال بیان کریں گی جن میں اس نے حصہ لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں صحرائی علاقے میں ہونے والے مقابلے کے تمام مراحل میں‌ حصہ لینے کے لیے تیار ہوں۔ میں اس سے قبل اردن اور مراکش میں ہونے والے موٹرسائیکل مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔

دانیہ عقیل نے انٹرنیشنل بزنس میں ایم اے کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریتلے علاقے میں موٹرسائیکل چلانے سے کی ٹریننگ سے کیا۔ میں ہر ہفتہ وار تعطیل کے موقعے پر اپنی مہارت میں اضافہ کرنے کوشش جاری رکھی۔ برطانیہ میں تدریس کے دوران میں نے دو پہیو والی موٹرسائیکل چلانے کا فن سیکھا۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے زندگی کے تجربات سے سیکھا ہے کہ اپنے مشن پر توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ کیے جانے والے مشن ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔

دانیہ عقیل نے بتایا کہ سعودی وزارت برائے امور کھیل کی طرف سے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔ سعودی عرب کی وزارت کھیل کے نمائندہ 'SAMF' کی طرف سے اسے موٹرسائیکل مقابلے میں شرکت کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیا گیا۔ دانیہ کا کہنا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے موٹرسائیکل ریس کے دو مقابلوں میں کامیابی حاصل کرچکی ہیں جس کی وجہ سے مملکت میں اسے ایک پیشہ ور موٹرسائیکلسٹ قرار دیا جاتا ہے۔

دانیہ نے کہا کہ اس نے تربیت کے دوران موٹرسائیکل چلانے کے مقابلوں کی راہ میں آنے والی ہر مشکل کو پار کر دیا۔ اس نے کہا کہ تقدیر نے جو میرے لیے لکھا ہے میں‌ نے اسے مستقبل کے لیے نہیں چھوڑا۔ میں اپنے مشن کے لیے جو بہتر سمجھتی ہوں وہ کر گذرتی ہوں۔