.

ایران دنیا میں تنہا ہے، ہمارے اتحاد حماس اور حزب اللہ جیسے ہیں: ایرانی صدارتی امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور صدارتی امیدوار علی مطہری نے حکومت کی پڑوسی ملکوں اور عرب ممالک کے حوالے سے پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات آٹھ سال کے دوران ایران نے پڑوسی عرب ملکوں کے حوالے سے جو حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے وہ نا مناسب ہے۔

فارسی میں شائع ہونے والے اخبار'خراسان' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر مطہری نے کہا کہ ایران میں سعودی عرب کے نمائندہ دفاتر پر حملے ایک وحشیانہ اقدامات تھے۔ انہوں نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے پیش رفت کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنا برتائو اور رویہ تبدیل کرے۔

ایک سوال کے جواب میں علی مطہری کا کہنا تھا کہ ہم خطے اور پوری دنیا میں تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی کم زوری یہ ہے کہ مسلمان ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں۔ ہم نے خود کو ایک جزیرے میں محصور کردیا ہے جہاں ہمارے اتحادی صرف حزب اللہ اور‌حماس جیسے گروپ ہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ گذشتہ سات آٹھ سال کےدوران ایرانی حکومت نے عرب ممالک کے حوالے سے غلط پالیسی اپنائی ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔ یہ مناسب نہیں کہ ایران اپنے ہمایوں کے لیے خوف کی علامت بن جائے۔

اپنے انٹرویو میں علی مطہری نے امریکا اور دوسرے ممالک کی طرف سے ایران پر عاید کردہ معاشی پابندیوں‌کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران داخلی طور پر کم زور ہا ہے۔ ہمیں اپنی معاشی مشکلات کو حل کرنے کے لیے موثر اور ٹھوس فیصلے کرنا ہوں گے۔