فرانس کا یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے 'امن اقدام' کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے امن اقدام کو عالمی سطح پر مسلسل سراہا جا رہا ہے۔ دو

سرے یورپی ممالک کی طرح فرانس نے بھی سعودی عرب کے امن اقدام کا خیر مقدم کرتےہوئے اس اقدام کو یمن جنگ کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان اگنیس واون نے جمعرات کے روز العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک یوروپ کے ساتھ مل کر یمن بحران کے خاتمے کے سعودی اقدام کی حمایت کرتا ہے

العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سعودی اقدام یمن میں بحران کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا اور اس سے یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار ہوگی۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں حوثیوں کی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کو ضروری ہے۔ انہوں‌نے یمن بحران کا اقوام متحدہ کی زیرنگرانی بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر یمن سے ہونے والے ہر حملے کی فرانس کی طرف سے مذمت کی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کرتے ہیں اور مملکت کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے پابند ہیں۔

حوثی ملیشیا
حوثی ملیشیا

فرانسیسی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ یمن کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ہم سعودی اقدام پر حوثیوں کے جواب کے منتظر ہیں۔

ادھر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اقوام متحدہ کی زیرنگرامی برطانوی فوج کی یمن میں امن فوج کے طورپر تعیناتی کی مشروط حمایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں