.

عراق سے شام میں ایرانی ملیشیاؤں کو میزائلوں کی نئی کھیپ کی منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس‎ کا کہنا ہے کہ عراق سے مختصر اور درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں سمیت ہتھیاروں کی نئی کھیپ شام کے علاقوں میں منتقل کی گئی ہے جو ایرانی ملیشیاؤں تک پہنچائی گئی ہے۔

آبزرویٹری نے مزید کہا ہےکہ یہ ہتھیار دیر الزور کے مغربی دیہی علاقوں میں فاطمیون ملیشیا کے گودام خالی کر دیئے گئے تھے اور ان سے اسلحہ اور گولہ بارود کی کچھ مقدار الرقہ میں ایرانی ملیشیائوں تک پہنچائی گئی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی ملیشیا نے شمالی شام میں ترکی اور روس کے معاہدے کے بعد نوجوان شامی باشندوں کی اپنی صفوں میں بھرتی کا عمل تیز کر دیا ہے۔

شام میں روس اور ایران کے مابین طاقت کی جدوجہد کے تناظر میں نوجوانوں کو دونوں فریق اپنی وفادار ملیشیاؤں میں بھرتی کر رہے ہیں۔ زیادہ تر بھرتیاں قامشلی اور حسکہ میں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی تھی کہ "فاطمیون" بریگیڈ کے زیر قیادت ایران نواز ملیشیا کی صفوں میں نوجوان مردوں اور خواتین کو راغب کرنے اور انہیں بھرتی کرنے کا عمل زوروں پر ہے۔

جنوری کے وسط سے لے کر رواں ماہ تک بھرتی ہونے والوں کی تعداد 710 تک پہنچی پہنچ گئی ہے جن میں 315 قومی دفاع ملیشیا کے ممبر ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق ایرانی اور روسی ملیشیاؤں میں بھرتی ہونے والے فوجیوں میں سے 395 عام شہری اور قبائلی نوجوان ہیں۔انہیں راغب کرنے اور پھر انہیں تربیت دینے کے لیے قامشیلی کے جنوب میں طرطب رجمنٹ کے اندر کیمپوں میں منتقل کرنے کے لیے پیسے کی لالچ دی گئی تھی۔