.
ایران جوہری معاہدہ

ایران میں سیکورٹی خلا کے سبب پاسداران انقلاب اور انٹیلی جنس کے درمیان بد اعتمادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں نطنز کی جوہری تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے تناظر میں ایرانی پاسداران انقلاب اور وزارت انٹیلی جنس کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس بات کا انکشاف بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کے زیر انتظام "ریڈیو فردا" نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان سیکورٹی کی لاپرواہی سے متعلق الزامات کے تبادلے کے سائے میں ایرانی سیکورٹی اداروں کی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں اور یہ کہ ان کے درمیان رابطہ کاری میں خلا موجود ہے۔

مزید یہ کہ ایرانی جوہری سائنس داں محسن فخری زادہ کے قتل نے دونوں اداروں کے بیچ اختلاف کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ نوبت یہ یہاں تک آ چکی ہے کہ دونوں اداروں نے ایک دوسرے کے عناصر کو گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کا کہنا ہے کہ نطنز کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا مقصد واشنگٹن پر سے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس طرح جو بائیڈن کی انتظامیہ کو جوہری معاہدے کی جانب واپسی کی صورت میں ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر رعائتیں حاصل کرنے کے لیے مہلت مل جائے گی۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ نطنز حملہ دو مقاصد کے حصول کے واسطے کیا گیا۔ پہلا یہ کہ ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کو تاخیر سے دوچار کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ویانا میں بات چیت کی میز پر ایران کے مذاکراتی نفوذ کو ضرب لگائی جائے۔

یاد رہے کہ نطنز تنصیب میں حادثے کے چند روز بعد ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یورینیم کی افزودگی میں ایک بڑی جست لگاتے ہوئے اس کے تناسب کو 60% تک پہنچا دیا ہے۔ اس طرح تہران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے امکانات زیادہ قریب ہو جائیں گے۔

تاہم یروشلم پوسٹ اخبار نے اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اہاون زئیفی سمیت جن ذرائع سے بات چیت کی انہوں نے نطنز تنصیب پر حملے کے بعد ایران کے اس نوعیت کے اقدام میں کامیاب ہو جانے کو مشکل قرار دیا۔ ان ذرائع نے ایران کے اس دعوے کو محض ایک چال قرار دیا جس کا مقصد مذاکرات میں واشنگٹن پر دباؤ کا احساس پیدا کرنا ہے۔

البتہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے باور کرایا ہے کہ ایران نے جدید سینٹری فیوجز کا استعمال کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کی اس سطح کو یقینی بنایا ہے۔ ایجنسی کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سینٹری فیوجز 11 اپریل کو نشانہ بنائے جانے والے سینٹری فیوجز میں شامل نہیں تھے۔