.

ایران خطے کے نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے تباہ کرنا چاہتا ہے: سابق سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سعودی عرب کے سابق سفیر علی عواد عسیری کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنے مفادات کے خلاف کسی بھی مجرمانہ فعل کے خلاف ڈٹ جائے گا۔ انھوں نے کہ سعودی عرب کی طرف سے لبنانی مصنوعات کو روکنے کا مقصد لبنانی عوام نہیں بلکہ جرائم پیشہ مافیا کو نشانہ بنانا ہے

العربیہ کے فلیگ شپ نیوز سیگمنٹ ’’السوال المباشر‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی عواد عسیری نے کہا کہ اناروں کی حالیہ کھیپ جو سعودی عرب میں پکڑی گئی کے پیچھے ایران کی سازش ہے جو خطے کے نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا ہدف خطے کے نوجوان ہیں۔ لبنان سے دوسرے ملکوں کو منشیات سپلائی کرنے والے عناصر میں ایرانی ملیشیائیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے ایرانی فتووں کا بھی حوالہ دیا جو منشیات کی اسمگلنگ کو "مذہبی فریضہ" سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے کے پیچھے لبنان اور شام کی کمزوری اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ لبنان سے سعودی عرب تک منشیات کی اسمگلنگ کی کاروائیاں ایک پرانا مسئلہ ہے۔

العسیری نے کہا کہ لبنان میں مسئلہ انسداد منشیات کے قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لبنانی حکومت نے پہلے بھی منشیات کے خلاف جنگ میں تعاون کا مظاہرہ کیا تھا، امید ہے کہ آئندہ بھی تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصل بحران شام اور لبنان میں سکیورٹی سروسز کی مکمل عدم موجودگی ہے۔

عواد العسیری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انار کی آخری کھیپ ایران سے نکلی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات فروشوں کو حزب اللہ کی طرف سے سیاسی تحفظ حاصل ہے۔ منشیات کا پیسہ اندرونی اور بیرونی طور پر حزب اللہ کی مالی اعانت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سابق سعودی سفیر نے لبنان کی صورتحال میں مزید کشیدگی پر بھی خبردار کیا اور کہا کہ فرقہ واریت نے لبنانیوں کو سیاسی ہٹ دھرمی کا نشانہ بناتے ہوئے لبنان کو تاراج کر ڈالا ہے۔

عسیری نے بیروت کی صورتحال کے بارے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ لبنان کا مستقبل نامعلوم سمت جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب لبنان کے استحکام اور حمایت کا خواہاں ہے۔