.

شام: بشارالاسد سمیت صرف تین امیدوار صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اعلیٰ دستوری عدالت نے بشار الاسد کی 26 مئی کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درخواست منظور کرلی ہے۔عدالت نے ان کے علاوہ صرف دو اور امیدواروں عبداللہ سالوم عبداللہ اور محمود احمد مرعی کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی ہے۔

ان انتخابات میں بھی بشارالاسد کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ ان کے مدمقابل دونوں امیدواروں میں سے کوئی بھی انھیں ہرانے حتیٰ کہ سنجیدہ چیلنجر بننے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔بشارالاسد گذشتہ 21 سال سے شام میں برسراقتدار چلے آرہے ہیں۔ان کے مقابلے میں دونوں امیدوار زیادہ نمایاں نہیں۔

شام کے انتخابی قانون کے تحت صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں مسلسل شام میں مقیم رہا ہو۔اس قانون کے ذریعے جلاوطن حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو انتخابی عمل ہی سے باہر کردیا گیا ہے۔

بشارالاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ وہ پہلی مرتبہ 2000ء میں ایک ریفرینڈم میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔وہ 2007ء میں دوبارہ ریفرینڈم میں صدر بنے تھے۔2014ء میں شام میں پہلی مرتبہ کثیرامیدواروں کی بنیاد پر صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ان انتخابات میں 24 امیدواروں میں سے بشارالاسد سمیت صرف تین کو حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

امریکا اور شامی حزب اختلاف نے صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان سے بشارالاسد کی مطلق العنان حکمرانی ہی کو طول دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں ہونے والے صدارتی انتخابات سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ان قراردادوں میں شام میں جاری تنازع کے حل کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے،ایک نئے آئین کی تدوین اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں شفاف انتخابات کے انعقاد کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔

شام کی پارلیمان نے اگلے روز آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنے ترجیحی امیدوارکے نام کی منظوری دی تھی۔صدارتی امیدواروں کی فہرست میں سات خواتین سمیت 51 نام شامل تھے۔پارلیمان کے منظورشدہ ناموں کا اعلیٰ دستوری عدالت نے جائزہ لیا ہے اور تین اہل امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد 26 مئی کو دوسری مرتبہ صدارتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان انتخابات میں بھی بشارالاسد چوتھی مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔شام میں گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری لڑائی کے دوران میں 388000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔