.

یواے ای کے الشیخ محمد کی مصری صدر سے فون پر گفتگو؛غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم

خطے میں امن واستحکام کے حصول کے لیے مصر کی کوششوں کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور ابوظبی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید نے غزہ میں جنگ بندی کاخیرمقدم کیا ہے اور خطے میں امن واستحکام کے حصول کے لیے مصر کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق شیخ محمد نے اتوارکو مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے فون پر گفتگو کی ہے اور انھوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے مصر کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انھوں نے صدرالسیسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کو دیرپا بنانے کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں کی جانب سے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یو اے ای جنگ بندی کو برقرار رکھنے ، کشیدگی کے خاتمے اور امن کے حصول کے لیے تمام فریقوں سے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اسرائیل اورغزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے درمیان جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زوردیا تھا۔سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے بھی 21 مئی کو اسرائیل اورغزہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور اس میں مصر اور دوسرے علاقائی ممالک کے اہم مصالحتی کردار کو سراہا ہے۔

مصر اوردوسرے ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اسرائیلی فوج کی گیارہ روزہ فضائی بمباری میں کم سے کم ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ان میں 66 کم سن بچے شامل ہیں۔اس جنگ کے نتیجے میں پہلے سے مصائب کا شکارمحصورین غزہ کی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔غزہ کی پٹی کا شہری ڈھانچا تباہ ہوکر رہ گیا ہے اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کو علاج معالجے کی مناسب سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔