.

طائف کی 'شہد' سے زیادہ میٹھی خوبانی کےچرچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں کاشت کار گرمیوں کی آمد سے پہلے کے پھلوں کوسمیٹ رہے ہیں طائف گورنری کا ایک ایسا پھل جو شہد سے زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے بازاروں میں گاہکوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ لذیذ پھل برسوں سے کاشت کی جانے والی خوبانی ہے جو اپنی منفرد خوشبو، شہد کی طرح میٹھی اور لذت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے مغربی علاقے طائف کے بازاروں میں ابو خدین' کے نام سے مشہور یہ خوبانی آج کل عام ہے اور موسم گرما کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے۔

ایک مقامی کسان عبدالعزیز الطویری نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خوبانی کی یہ قسم اپنی سرعت پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کی تیاری اور پھل پکنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ سودی عرب کے دوسرے علاقوں میں کاشت ہونے والی اسی طرح کی خوبانی کا ذائقہ الگ ہے اور طائف کی خوبانی کا الگ ذائقہ ہے۔ طائف میں اس خوبانی کا اپنا رنگ، ذائقہ اور پھل کا حجم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الطویری نے کہا کہ طائف کا شمار سعودی عرب کے سرد علاقوں میں ہوتا ہے مگر طائف میں زیادہ ٹھنڈے علاقوں الھدا، وادی محرم، الغدیرین، الاعمق اوربلاد طویرق جیسے مقامات میں اس کی وسیع پیمانے پر کاشتکی جاتی ہے اور یہ پھل گذشتہ ایک سو سال سے کاشت کیا جاتا ہے۔

خوبانی کی کاشت کے طریقہ کار کے بارے میں بات کرتے ہوئے الطویری نے کہا کہ کاشت کار سردیوں میں اس کا بیج بو دیتے ہیں۔ اس کےبعد جب تک اس کی گٹھلی اس کے پودے سے الگ نہیں ہوجاتی اس وقت تک اسے پانی نہیں دیا جاتا۔ ڈیڑھ ماہ میں اس کا بیج تنے سے الگ ہوجاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طائف میں یہ خوبانی 100 سال سے کاشت کی جاتی ہے۔ پہلے دور میں کاشت لکڑی کے بنے ڈبوں میں اسے بازاروں میں لاتے۔ ان ڈبوں کو مقامی زبان میں 'الشقر' کہا جاتا۔ یہ لکڑی کے صندوقوں کی طرح ہوتے۔ ایک اونٹ صرف چار شقر اٹھا سکتا تھا۔ اس کے بعد اسے الھواری کے ذریعے منتقل کیا جانے لگا اور آج کل کارٹن میں اس کی پیکنگ کی جاتی ہے۔

'بوخدین' کی وجہ تسمیہ

طائف میں اس لذیذ خوبانی کو 'بوخدین' کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے سرخ رنگ اور شہد کی طرح مٹھاس ہے۔ یہ میٹھے پانی اور خطے کی زرخیز مٹی میں کاشت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا پنا ذائقہ ہے۔

خوبانی کی زیادہ تر کاشت طائف کےجنوبی علاقوں میں کی جاتی ہے۔ مقامی سطح پر بنی سعد، میسان، ثقیف، بنی مالک، اور اطراف کے علاقوں میں اس کی کاشت کرتے ہیں۔
پھل پکنے کے آغاز میں اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے مگر جیسے ہی بازاروں میں یہ عام ہوتی ہے تواس کی قیمت بھی کم ہوجاتی ہے۔شروع میں ایک کارٹن خوبانی کی قیمت 150 ریال سے کم ہوکر 60ریال تک آجاتی ہے۔