.

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی فلسطینی نو عمر جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نو عمر فلسطینی لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

فلسطینی وزارت صحت کے ایک بیان کے مطابق 12 سالہ محمد االعلمی اپنے والد کے ہمراہ الخلیل کے قصبے بیت عمر میں ایک فوجی چیک پوائنٹ سے گزر رہا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

نوعمر فلسطینی محمد العلمی حالیہ دنوں میں جاں بحق ہونے والے دوسرے ایسے فلسطینی ہیں جو کہ اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ فوجیوں نے ناکے کے قریب ایک شخص کو گاڑی سے نکل کر زمین میں کھدائی کرتے دیکھا گیا۔ جب فوجی موقع پر پہنچے اور انہوں نے زمین کو دوبارہ کھولا تو اس میں سے دو بیگ برآمد ہوئے جن میں سے ایک سے نومولود بچے کی لاش برآمد ہوئی۔"

جب ایک گاڑی کچھ دیر بعد دوبارہ اسی جگہ پر آئی تو فوجیوں کو یقین ہوگیا کہ یہ پہلے والی ہی گاڑی ہے اور اسے ہوئی فائرنگ کر کے روکنے کی کوشش کی۔ جب گاڑی نے فرار کی کوشش کی تو فوجیوں نے گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق "ہم فائرنگ سے فلسطینی نوعمر کی ہلاکت کے دعویٰ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ "

اس سے قبل ہفتے کے روز 17 سالہ فلسطینی محمد منیر التمیمی بھی ایک روز قبل لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے تھے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق فلسطینی لڑکے کو بیتا قصبے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 320 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں منگل کے روز قابض اسرائیلی فوجیوں کے حملے میں 41 سالہ فلسطینی شہری شہید ہوگئے۔

مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کی رو سے غیر قانونی ہیں۔