.

لبنان کی صورت حال بگڑنے کے بعد برطانوی سفارت خانہ سے بعض ملازمین کی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں صورت حال ابترہونے کے بعد دارالحکومت بیروت میں واقع برطانوی سفارت خانہ نے اپنے عملہ کے بعض ارکان اوران کے خاندانوں کو واپس بھیج دیا ہے۔

برطانوی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پرایک بیان میں کہا ہے کہ ’’لبنان میں ایندھن کی سپلائی کی غیریقینی صورت حال اور اس کےاہم بنیادی خدمات پراثرات کے پیش نظر سفارت خانہ کے عملہ کے بعض ارکان اور ان کے متعلقین کو عارضی طورپر واپس بلا لیا گیا ہے۔‘‘

بیان کے مطابق’’لبنان میں جاری اقتصادی بحران کی وجہ سے ایندھن،ادویہ اور خوراک ایسی بنیادی اشیاء تیزی سے کم یاب ہوتی جارہی ہیں۔‘‘

دریں اثناء یونیسیف نے خبردار کیا ہے لبنان میں ایندھن کے شدید بحران کے پیش نظرچالیس لاکھ سے زیادہ افراد کو آیندہ دنوں میں پانی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے یا وہ مکمل طور پر پانی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’لبنان میں سیاسی اوراقتصادی صورت حال (بحران) کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری ہیں۔ملک بھر میں مظاہرین ، سکیورٹی فورسز اور سیاسی گروپوں کے حامیوں کے درمیان متشددمحاذآرائی کی اطلاعات ملی ہیں۔‘‘

’’ان احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں بیروت کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑک سمیت بڑی شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے،بنک اور کاروباربند ہوچکے ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

لبنان کی کل آبادی 60 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ملک میں گذشتہ دوسال سے اقتصادی اور سیاسی بحران جاری ہے اور میں ایندھن کی شدیدقلّت پیدا ہوچکی ہے، حکومت مہنگے داموں بیرون ملک سے تیل برآمد کررہی ہے لیکن اب وہ زرتلافی پریہ ایندھن شہریوں کو مہیا کرنے سے قاصر ہے اور اس نے گیسولین کی قیمتوں میں مزیداضافہ کردیا ہے۔گیسولین کی قلّت کی وجہ سے گذشتہ کئی روز سے گیس اسٹیشنوں پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظرآرہی ہیں اور بعض جگہوں پر لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔