.

سعودی فوٹو گرافر کی 30 سے زائد ملکوں کےسفرکی تصویری داستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک مہم جو فوٹو گرافر فہد عبدالعزیز العودہ نے ابن بطوطہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دُنیا کے 30 سے زاید ممالک کا سفر کیا۔ اپنے اس سفر کے دوران اس نے جہاں مختلف تہذیبوں ، ثقافتی روایات، فنون تعمیر دیگر دلچسپ چیزوں کا مطالعہ کیا وہیں اس نے اپنا فوٹو گرافی کا شوق بھی پورا کیا۔

فہد عبدالعزیزنے دنیا کے ملکوں میں سفر کے دوران نہ صرف ان ملکوں کی ثقافتوں کا مطالعہ کیا بلکہ وہ سعودی عرب کے ایک سفیر کے طورپر ان ملکوں میں مملکت کی رواداری، بقائے باہمی اور امن وسلامتی کے پیغام کو عام کیا۔

فہد نے حال ہی میں بین الاقوامی تصویر مقابلے میں حمدان بن محمد بن راشد فوٹو گرافی ایوارڈ بھی جیتا ہے۔شہرت کا حصول ہر فوٹو گرافر کی تمنا ہوتی ہے۔ فہد کو حمدان بن محمد بن راشد ایوارڈ نے عالمی سطح پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ میں نے حمدان بن محمد بن راشد بین الاقوامی ایوارڈ جیت اور اسے "کرسٹوفر کولمبس‘‘ کے ملک سے انسانی غنیمت" قرار دیا۔

کیوبا جنگ کی یادیں

فہد عبدالعزیز نے مزید کہا کہ کیوبا کے ایک جنگجو جسے’’ رامبرٹو ‘‘کا نام دیا جاتا تھا۔ وہ کیوبا کا جنگجو تھا۔ کیوبا کے شہر ٹرینیڈاڈ میں وہ اپنے گھر کی دہلیز پر راہگیروں پر غور کر رہا تھا۔ اس دوران اس کی ایک تصویر لی گئی۔

سعودی فوٹوگرافر فھد عبدالعزیز
سعودی فوٹوگرافر فھد عبدالعزیز

تاہم تصویر فہد کے ذہن میں رہی۔اس نے چند گھنٹوں کے بعد اس کے پاس واپس آنے کا فیصلہ کیا تو اسے اسی جگہ پر پایا۔ فہد نے کہا کہ ہماری دلچسپ گفتگو ہوئی۔ اس بھلے آدمی نے میری میزبانی کے لیے پہل کی۔ وہ چھوٹے سے مکان میں رہنے والا ایک سپاہی تھا جو کیوبا کے انقلاب کے دوران زندگی گزارتا اور وہ فوج کے ساتھ خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس نے بہت سی سجاوٹ ، تصاویر اور یادیں محفوظ کررکھی ہیں جنہیں لا کرمیرے سامنے رکھ دیا۔ وہ اپنی اسپانوی زبان میں اپنی یادوں کے بارے میں بات کر رہا تھا۔اس یہ یادیں جنگ ، فخر اور جوش سے بھری ہوئی تھیں۔ گویا وہ کسی اجنبی کا انتظار کر رہا تھا کہ جو اسے اپنی کامیابیوں اور شاندار یادوں سے آگاہ کرے۔

کسی شخص کے جوہر کو بیان کرنے والی کہانی

اگرچہ فہد دنیا کے مختلف حصوں میں فوٹو گرافی کی مہم جوئی میں رہا۔ یہ تصویر ان کے لیے بہت زیادہ معنی رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف ایک تصویر نہیں بلکہ ایک کہانی ہے جو کسی شخص کے جوہر کو بیان کرتی ہے۔

اس نے وضاحت کی کہ ریمبرٹو کے ساتھ نشست کے دوران ان کے درمیان طویل گفتگو ہوئی اور انہوں نے بہت سی تصاویر کا جائزہ لیا جو اس کے کیریئر اور زندگی کا خلاصہ ہیں۔

15 تخلیقی ایوارڈ

فہد جغرافیہ کو فوٹو گرافی سے جوڑتا ہے۔اس کا یہ سفراقصائے زمین پرپھیلے ممالک اور مملکت کے درمیان ثقافتی پل کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کی تصاویرنے شاہ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر’اثرا‘ کے تعاون سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور جنوبی کوریا کے ساتھ رابطے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کی تصاویر بین الاقوامی میگزین کے سرورق میں سرفہرست رہیں۔اس کے فوٹو گرافی کے کام نیشنل جیوگرافک ویب سائٹ پر شائع ہوئے۔ فوٹوگرافی کے فن میں ان کے 15 سے زیادہ تخلیقی ایوارڈ حاصل کیےہیں۔

انڈیا میں اسٹریٹ لائف کی کہانی

فہد کے دورے فوٹو گرافی کی کہانیوں سے خالی نہیں ہیں۔ اس نےبتایا کہ وہ بھارت کے سفر پرگیا وہاں پرمقامی طرز زندگی کو قریب سے دیکھا۔ میں نے ہمیشہ ٹی ای ڈی ایکس ریاض کانفرنس میں بھارت کے بارے میں بات کی۔ ہندوستان ثقافتوں ، مذاہب ، رسومات اور تقریبات سے بھرا پڑا ہے۔اس کے علاوہ اس کے لوگ بقائے باہمی کی خصوصیات رکھتے ہیں اور مہربانی سے اپنے زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔