.

حوثیوں کی مآرب پرقبضے کی کوشش مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی مآرب پر قبضے کی کوشش یمنی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ٹم لینڈرکنگ کا کہنا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حوثی ملیشیا مآرب پر قبضے کے لیے مصر ہیں۔ مآرب پر قبضے کے لیے حوثیوں کی جنگ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

خیال رہے کہ حوثی ملیشیا نے رواں سال فروری میں مآرب پر قبضے کے لیے حملہ کیا تھا۔ اگرچہ ابھی تک حوثی ملیشیا مآرب پر قبضے میں کامیاب نہیں ہوسکی مگر اس نے جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں، امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مطالبات کے باوجود حوثی ملیشیا مآرب پر قبضے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں شہری بے گھر ہوگئے ہیں۔ تاہم سرکاری فوج اور مقامی قبائل کی مزاحمت کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

جنوبی مآرب کے مختلف محاذوں پر حوثی ملیشیا کو عرب اتحادی فوج، یمن کی آئینی فوج اور مقامی مزاحمتی ملیشیا کے حملوں میں بھای جانی اور مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔