.

اردن کے شاہ عبداللہ کو شام میں جنگ کےآغاز کے بعد بشارالاسد کی پہلی فون کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدربشارالاسد نے اتوار کے روزاردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔شامی صدر کا ان سے ایک دہائی قبل شام میں جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا مواصلاتی رابطہ ہے۔

حکام کے مطابق دونوں لیڈروں کے درمیان یہ بات چیت دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف تازہ اقدام ہے۔اردن شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ مغربی ممالک کے حمایت یافتہ شامی باغی بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہرکرنے کے لیے مسلح جدوجہد کررہے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تحریک ماند پڑچکی ہے اور اب وہ شام کے مغربی صوبہ ادلب اور اس کے مضافات تک محدود ہوچکے ہیں۔

اردن کے شاہی محل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں لیڈروں نے دونوں برادرہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

شاہ عبداللہ نے بشارالاسد کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے پڑوسی شام کی علاقائی سالمیت اور اس کے ’’استحکام اور خودمختاری‘‘کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ شاہِ اردن نے 2011 میں تنازع کے آغاز پر پرامن جمہوریت نوازمظاہرین کے خلاف شامی حکومت کے کریک ڈاؤن کے ردعمل میں بشارالاسد سے صدارت کا منصب چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا اور اردن اسدی فوج کے خلاف جنگ آزما باغی گروپوں کو مغرب اورعرب ممالک کی جانب سے بھیجے گئے ہتھیارمہیا کرنے کا ذریعہ بن گیا تھا۔

تاہم امریکا کے کٹراتحادی اردن نے گذشتہ چندماہ کے دوران میں شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔قریباً دوہفتے قبل سرحدپارسکیورٹی کو مربوط بنانے کے لیے شامی وزیر دفاع کا خیرمقدم کیا تھا۔

اردن نے گذشتہ ہفتے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے شام کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ کو بھی مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا تھا۔اس نے تنازع کے آغازکے فوری بعد سے شام سے معطل شدہ فضائی روابط کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اردن کی شاہی فضائی کمپنی شام کے لیے براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔