.

سعودی عرب: سدا بہار چشموں کی تنگ وادی کی حضرت موسیٰ کے ساتھ کیا نسبت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے تبوک میں دو پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی تنگ وادی واقع ہےجو اپنے قدرتی مناظر، سال بھر بہنے والے میٹھے اور صاف پانی کے چشموں کے دلفریب مناظر کے باعث سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔

اس وادی کو’طیب اسم‘ کا نام دیا جاتا تاہم اس نام کی وجہ تسمیہ معلوم نہیں ہو سکی۔ البتہ بعض تاریخی روایات میں اس مقام کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس وادی میں اپنا عصا مار تھا جہاں سے خلیج نمودار ہوئی تھی۔

خلیج عقبہ کے شمال مشرقی ساحل سے 10 کلومیٹر کی مسافت پر واقع اس بلند پہاڑی علاقے کو سدا بہار چشموں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس کے قریب ساحل مرجانی چٹانوں کی بہ دولت توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ قدرتی مقامات کی سیر وتفریح میں دلچسپی رکھنے اور فوٹو گرافی کے شوقین لوگوں کے لیے یہ ایک دلفریب مقام ہے۔

انحدار المياه من الشق إلى البحر
انحدار المياه من الشق إلى البحر

اس سیاحتی مقام کی خوبصورتی اپنی دلکشی اور دلفریبی میں اپنی مثال آپ ہے۔ رات کے وقت اس جگہ کے مناظرایک الگ ہی قدرتی ماحول رکھتے ہیں۔ اس مقام کا موسم، آب وہوا، ماحول اور صاف ستھرا آسمان سیاحوں کے لطف اندوز ہونے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

ایک مقامی فوٹوگرافرمحمد الشریف نے ’طیب اسم‘ نامی اس پہاڑی وادی کے مناظر کے بارے میں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا پہاڑوں کے درمیان ایک بڑا شگاف ہے جس نے اسے ایک گھاٹی نما وادی میں بدل دیا ہے۔ یہ جگہ اتنی تنگ ہے کہ اس میں ایک وقت میں صرف ایک کار ہی گذر سکتی ہے۔

اس وادی میں میٹھے پانی کے تین چشمےسال بھر بہتے رہتے ہیں۔ قریبی سمندری پانی کی نسبت ان چشموں کا پانی زیادہ میٹھا اور صحت افزا ہے۔ بالیقین یہ سعودی عرب میں عجائب فطرت میں ایک عجوبہ ہے۔ اس کے دونوں اطراف میں اونچے پہاڑ ہیں۔ قریب ہی سمندر ہے جب کہ وادی کے اندر کھجور کےدرختوں نے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیے ہیں۔

گرینائٹ کے ذخائر

فوٹو گرافر محمد شریف نےبتایا کہ خلیج عقبہ کے فیروزی پانیوں اور سفید ساحلوں کے ساتھ یہاں پر 600 میٹر کی بلندی پر گرینائٹ بلاک ہے۔ جس کے نوکیلے کنارےاطراف میں کھجور کے درختوں سےبھرپور خلیج عقبہ سےملتے ہیں۔ کھجور کے درختوں سے ملحق سائٹ کے داخلی راستے سے پہاڑ کو دیکھیں تو وہ گرینائٹ کا ایک بلاک دکھائی دیتا ہے جو دیکھنے میں ایسے لگتا ہے کہ کسی دور میں یہ ایک ہی پہاڑ تھا مگراب یہ دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے۔

حضرت موسیٰ سے نبست

الشریف نے مزید کہا کہ یہ جگہ کھجور کے درختوں کے بیچ میں بہنے والے پانی کے چشموں کی بہ دولت منفرد خصوصیت رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ اس سائٹ کی منفرد ارضیاتی تشکیلات زائرین کے لیے پرکشش ہیں۔ محبت کرنے والے ، سفاری ، پیدل سفر اور کوہ پیمائی کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک خاص مقام ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وادی طیب اسم 30 کلومیٹر لمبی ہے اور اس میں ایک گھاٹی ہے جب کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان لکڑی سے بنا ایک پُل ہےجو گول چٹانوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پیدل چلنے والوں کے لیے اندر جانے کا واحد راستہ ہے۔ ایڈونچر سے محبت کرنے والے ان پہاڑوں پر چڑھ سکتے ہیں اور چٹان کے دوسری طرف واقع راستہ پانچ کلو میٹر کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔

یہ قابل ذکر ہے کہ اس سائٹ کی ایک مذہبی اور تاریخی اہمیت ہے۔ اس علاقے کے بارے میں کئی تاریخی روایات ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پہاڑی راستہ جو اونچے پہاڑوں کے بیچ میں داخل ہوتا ہے وہ جگہ ہے جہاں جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ کے عصا مارا تھا۔ وہاں سے خلیج عقبہ کا ظہور ہوا۔