.
جوہری ایران

ایران جوہری بم تیار کرنے کے قریب نہیں:سابق موساد چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے خفیہ ادارے’موساد‘ کے سابق سربراہ یوسی کوہین نے منگل کو اسرائیلی اخبار "دی یروشلم پوسٹ" کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران ابھی تک ایٹمی بم بنانے سے دور ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے دنوں کےبعد مسلسل تنہائی کا شکار ہے۔

کوہین نے انکشاف کیا کہ انہوں نے مہینوں پہلے انٹیلی جنس بریفنگ دیکھی تھی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیتیں ماضی کی نسبت بہتر نہیں ہیں۔ ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیوں کے لیے یورینم ک افزودگی سے نہیں لگتا کہ تہران ایٹم بم بنانے کے قریب ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لبید کی جانب سے گذشتہ ماہ خبردار کیا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے قریب ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے گذشتہ اگست میں کہا تھا کہ خام مال حاصل کرنے کے بعد ایران 10 ہفتوں میں ایٹم بم بنا سکتا ہے۔

کوہین نے کانفرنس میں "یروشلم پوسٹ" کے نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "اگرایران ایٹمی ہتھیار تیار کرتا ہے تواسرائیل اسے خود ہی روک سکتا ہے"۔ ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا جائے مگرمضبوط عمارتوں کو تباہ کرنے والے بم کے بغیرایران کو بم بنانے سے روکنا ممکن ہے؟ تو موساد کے سابق چیف نے کہا کہ"ہمیں اپنی صلاحیتوں کو تیار کرنا ہوگا تا کہ ہم مکمل طور پر خود مختاری اور آزادی کے ساتھ وہ کام کریں جو اسرائیل نے پہلے دو بار کیا تھا۔" ان کا اشارہ شام اور عراق میں دو ایٹمی ری ایکٹروں پر بمباری کی جانب تھا۔

کوہین نے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان حالیہ امن معاہدوں میں اپنی شرکت کے بارے میں بھی بات کی اور اسے اب تک کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک عظیم پیش رفت اور اسرائیل کے لیے ایک معجزہ ہے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔