.

ایس او پیز میں نرمی کے بعد مسجد حرام میں نماز کا رُوح پرور منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد حرام میں آج اتوار کے روز نماز فجر کے موقع پر روح پرور منظر دیکھنے میں آیا۔ یہ منظر دو برس کے بعد سامنے آیا ہے جب سعودی حکومت نے حرم مکی میں سماجی فاصلے کے واسطے لگے ہوئے اسٹیکروں کو ہفتے کے روز ہٹا دینے کا اعلان کیا۔ سماجی فاصلے کی پابندی کرونا کی وبا کے حوالے سے حفاظتی تدابیر اور احتیاطی اقدامات کے سلسلے میں لاگو کی گئی تھی۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے ایس او پیز میں نرمی کی منظوری دی گئی تھی۔ اس نرمی میں مسجد حرام میں کارکنان اور زائرین کی مکمل حاضری کا اجازت دی گئی ہے تاہم تمام لوگوں کو مستقل طور پر ماسک لگانا لازم ہو گا۔ علاوہ ازیں "اعتمرنا" یا "توكلنا" موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے عمرے اور نماز کے لیے وقت کے تعین کا سلسلہ جاری رہے گا۔

آج اتوار کو نماز فجر میں تقریبا دو سال بعد امام حرم شیخ بندر بلیلہ کی آواز میں نمازیوں کو صفیں درست کرنے کے لیے مخصوص جملے "استووا.. اعتدلوا.. تراصوا.. سدوا الخلل" سنائی دیے گئے۔ نماز فجر کی وڈیو پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش میں آ رہی ہے۔

اس سے قبل صدرات عامہ برائے امور حرمین شریفین کی ہدایت پرحرم مکی کو مکمل طور پر نمازیوں کے لیے کھولے جانے کے بعد حرم شریف میں سماجی فاصلے کی ہدایات کے لیے جگہ جگہ لگائے گئے بورڈ اور اسٹیکرز ہٹا دیے گئے۔

سماجی فاصلے کے یہ اسٹیکرز ایک ایسے وقت میں ہٹائے گئے ہیں جب دوسری طرف مسجد حرام کو مکمل طورپر نمازیوں کے لیے کھولنے اور ایس اوپیز میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق آج اتوار سے مملکت میں کھلے مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کردی گئی ہے تاہم بند مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہو گا۔ مسجد حرام میں پوری گنجائش کےتحت نمازیوں کی آمد ورفت کی اجازت دی گئی ہے اور سماجی فاصلے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔