.

سعودی عرب اور یونان کے مشترکہ بیان میں مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور یونان نے مشترکہ طور پر مملکت میں اہم اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں اور دہشت گرد جماعتوں کی مذمت کی ہے۔

منگل کی شب جاری دو طرفہ بیان میں شدت پسندی کے انسداد اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے واسطے بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک باور پھر باور کرایا گیا ہے کہ اس خطرناک رجحان کا تعلق کسی نسل دین یا وطن سے نہیں ہے۔

بیان میں خلیجی منصوبے اور بین الاقوامی قرار دادوں کی بنیاد پر یمن کے بحران کے ایک جامع حل تک پہنچنے کی کوششوں کو سپورٹ کیا گیا۔

مذکورہ مشترکہ بیان یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میٹسوٹاکس کے سعودی عرب کے دو روزہ (پیر اور منگل) کے اختتام پر جاری کیا گیا۔

بیان کے مطابق دورے کے دوران میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے خطوں کی صورت حال، مشرق وسطی میں سیاسی معاملات اور بحرانات اور مشترکہ دل چسپی کے بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ جانبین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کی جانب سے متعلقہ امور کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ان امور میں بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کو یقینی بنانا اور ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کی تمام صورتوں کا روکا جانا شامل ہے۔

مشترکہ بیان میں یونان نے سعودی عرب کی جانب سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے واسطے انجام دی جانے والی بڑے پیمانے کی کوششوں کو گراں قدر قرار دیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور یونانی وزیر اعظم نے دونوں ملکوں کے بیچ تاریخی تعلقات اور مشترکہ تعاون کی صورتوں کا جائزہ لیا۔ علاوہ ازیں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر موجودہ حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

دفاع اور سیکورٹی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے دونوں شخصیات نے مشترکہ عسکری تربیت اور مشقوں کے ذریعے افواج کی حربی استعداد اور مہارت کی سطح بلند کرنے پر اتفاق رائے کی۔ علاوہ ازیں دونوں ملکوں کے بیچ عسکری تعاون اور رابطہ کاری پر بھی زور دیا گیا۔

جانبین نے مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کے امکان پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔ سعودی عرب نے مختلف شعبوں میں مملکت کے نجی سیکٹر کے ساتھ یونان کے نجی سیکٹر کی شراکت داری کا خیر مقدم کیا۔ ان میں پانی کی صفائی کے پلانٹ، پانی منتقل کرنے کی لائنیں، نکاسی آب کے اسٹیشن، زراعت اور اشیائے خوردنوش شامل ہیں۔

سعودی عرب اور یونان کے بیچ مشترکہ بزنس کونسل کے قیام اور دونوں ملکوں کے درمیان بحری جہاز سازی کی صنعت میں تعاون پر بھی غور کیا گیا۔