حماس نے اسرائیلی صدراسحاق ہرتصوغ کے یہود کے مذہبی تیوہارحانوکا کے موقع پرمقبوضہ مغربی کنارے میں واقع متنازع مقدس مقام کے دورے کے’’نتائج عواقب‘‘پر خبردار کیا ہے۔
اسرائیلی صدر ہرتصوغ کے دفتر نے جمعہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ اتوار کے روز الخلیل (حبرون) میں پیٹریاکس غار(كہف البطاركہ) میں موم بتی جلانے کی تقریب میں شریک ہوںگے۔ ہرزوگ کے دفتر کے اس اعلان پراسرائیل کی بائیں بازو کی یہودآبادکاری مخالف میریٹز پارٹی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حماس کے سینیرعہدہ داراسماعیل رضوان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی قبضے کو اس دورے کے نتائج وعواقب کی مکمل ذمے داری قبول کرنا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ یہود کی مذہبی عیدحانوکا کے موقع پر المسجدالابراہیمی میں موم بتیاں جلانے کی تقریب فلسطینیوں کے مذہبی احساسات وجذبات کو اشتعال دلانے اور اس مقدس مقام کا تقدس مجروح کرنے کی کوشش ہے۔انھوں نے فلسطینیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس اشتعال انگیزاقدام سے بچیں۔
الخلیل کو یہود اور مسلمانوں دونوں مذاہب میں قابل احترام شہر سمجھاجاتا ہے۔اس میں مسلمانوں کا مقدس مقام مسجد ابراہیمی ہے اوریہوداس کوغارالبطارکہ کے نام سے پکارتے ہیں۔یہاں امام الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سمیت کئی ایک جلیل القدر انبیاء علہیم السلام مدفون ہیں۔
الخلیل مغربی کنارے کا سب سے بڑا شہر ہے۔یہاں ایک ہزار یہودی آبادکاروں کو بسایا گیا ہے۔وہ اسرائیلی فوج کی کڑی سکیورٹی میں رہتے ہیں۔اس شہر میں دولاکھ سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں۔الخلیل میں گذشتہ برسوں کے دوران میں فلسطینیوں اور قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید کشیدگی رہی ہے۔
یادرہے کہ 1994ء میں ایک یہودی آباد کاردہشت گرد باروچ گولڈسٹین نے مسجد ابراہیمی میں اندھادھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 29 فلسطینی نمازی شہید ہوگئے تھے۔اس حملے میں بچ جانے والے نمازیوں نے اس حملہ آورکوپکڑلیا تھا اورپھر تشدد کا نشانہ بنا کرہلاک کر دیا تھا۔
دریں اثناء برطانیہ نے جمعہ کو حماس کے تمام شعبوں کو باضابطہ طور پر’’اسلام پسند دہشت گرد تنظیم‘‘قرار دے دیا ہے۔ غزہ کی پٹی پر2007ء سے حکمران حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز پر برطانیہ نے قبل ازیں 2001ء میں پابندی عاید کردی تھی لیکن اب اس نے حماس کے سیاسی شعبے سمیت تمام بازوؤں پرپابندی عاید کردی ہے۔