حزب اللہ لبنان میں انتخابات ملتوی کرانے کے لیے تاخیری حربے آزمارہی ہے:سمیرجعجع

ہم سعودی عرب اورخلیج کو لبنان کے لیے ’’معاشی پھیپھڑوں‘‘کے طور پر دیکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان کے سرکردہ مسیحی سیاست دان سمیرجعجع نے اپنی حریف حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں پرآیندہ سال مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ملتوی کرانے کےلیے تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اورخبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے لبنان کی ’’سست موت‘‘ واقع ہوجائے گی۔

لبنانی فورسزکے رہنما اور سعودی عرب کے اتحادی سمیر جعجع نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حزب اللہ اوراس کے اتحادی صدر میشیل عون کی آزاد محبِ وطن تحریک،دونوں انتخابات میں تاخیرکے لیے اقدامات کررہی ہیں کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں اپنی پارلیمانی اکثریت کھودیں گی۔

صدرمیشیل عون یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ نومبرمیں پارلیمنٹ کی جانب سے منظورکردہ انتخابات کے بل پر دست خط نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بہ قول پارلیمانی انتخابات کی تاریخ جلد مقرر کی گئی ہے۔پارلیمان نے آیندہ انتخابات کے انعقاد کے لیے 27 مارچ2022ء کی تاریخ مقرر کی ہے۔

سمیرجعجع نے جب سوال کیا گیا کہ کیا اکتوبرمیں ان کے زیرقیادت لبنانی فورسزاورحزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے بعد انتخابات کے التوا کے نتیجے میں مزید لڑائی ہوگی؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا:’’لڑائی نہیں،بلکہ انتخابات کا التوا ملک کی ’سست موت‘ کا مزیدباعث بنے گا۔‘‘

انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے ایک انٹرویو میں کہاکہ موجودہ طرزعمل کے ساتھ ہی ریاستی ادارے اور ریاست روزبروزتحلیل ہوتی جا رہی ہے۔

لبنان میں رائے عامہ جانچنے کا کوئی معتبرادارہ نہیں لیکن اگرانتخابات ہوتے ہیں تویہ توقع کی جارہی ہے کہ سمیرجعجع کی جماعت ان میں وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھائے گی جبکہ اس کے مقابلے میں صدر عون کی آزاد محب وطن تحریک کی نشستیں کم ہوسکتی ہے جس سے حزب اللہ بھی پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے گی۔

بیروت میں سعودی سفیر سے قریبی رابطہ رکھنے والے سمیرجعجع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا ملک میں بڑھتا ہوااثرورسوخ خلیجی عرب ممالک کے ساتھ حالیہ سفارتی دراڑ کے پیچھے کارفرما ہےاور یہ لبنان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب اور خلیج کو لبنان کے لیے ’معاشی پھیپھڑوں‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ان کا اشارہ لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے یمن میں جاری جنگ سے متعلق متنازع بیان کی طرف تھا۔اس کے ردعمل میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے لبنان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔

سڑکوں پر تصادم

سمیرجعجع کے زیرقیادت لبنانی فورسز پارلیمنٹ میں دوسری سب سے بڑی عیسائی جماعت ہے۔ یہ جماعت 2019ء میں لبنان کی فرقہ واراشرافیہ کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد سے کابینہ سے باہرہے۔

لیکن یہ جماعت اس وقت دوبارہ میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔گذشتہ ماہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد سڑکوں پربدترین تشدد کی تحقیقات پر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور اس نے ملک میں 1975-90 کی خانہ جنگی کی یادکوتازہ کردیا تھا۔ان جھڑپوں میں حزب اللہ اوراس کی اتحادی امل تحریک کے سات پیروکارہلاک ہوگئے تھے۔

حزب اللہ نے لبنانی فورسزپراحتجاج کے دوران میں اپنے حامیوں پر گھات لگا کر حملہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ سمیرجعجع نے تصدیق کی کہ ان کی جماعت کے حامی دیگر افراد کے ساتھ ان جھڑپوں میں ملوث تھے لیکن انھوں نے اس اقدام کی تردید کی اور حزب اللہ کو بیروت کے عیسائی اکثریتی محلے عین الرمینح میں داخل ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا جو لبنانی فورسز کا مضبوط گڑھ ہے۔

لبنان کی خانہ جنگی کے دوران میں سمیرجعجع کے تحت لبنانی فورسزدائیں بازو کی ملیشیا تھی اور مشرقی بیروت سمیت مختلف علاقوں پرقابض تھی۔

اکتوبرمیں ہونے والی جھڑپوں کے بعد حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصراللہ نے اس پرفرقہ وارانہ تنازع شروع کرنے کا الزام عاید کیا تھااور خبردارکیا تھاکہ ان کے ملیشیا کے پاس ایک لاکھ جنگجو موجود ہیں۔

سمیرجعجع نے حسن نصراللہ کے اس الزام کی تردید کی کہ لبنانی فورسزکے پاس 15,000 جنگجو ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’پارٹی کے 35,000 ارکان ہیں جن میں سے صرف کچھ کے پاس ذاتی ہتھیارہیں اور شاید 10,000 سے زیادہ یعنی پوری پرانی نسل فوجی تربیت یافتہ ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ لبنانی فورسزحزب اللہ کے ساتھ مسلح تصادم کی کوشش نہیں کرتی اور شہری امن برقراررکھنے میں لبنانی فوج کے کردارکی وجہ سے فرقہ وارتشدد پھوٹ پڑنے کے بارے میں فکرمند نہیں۔

تاہم انھوں نے مزید تفصیل بتائے بغیرکہا کہ انھوں نے اپنی نقل وحرکت محدود کردی ہے اور وہ سکیورٹی خطرات کی وجہ سے مآرب میں واقع اپنی پہاڑی رہائش گاہ سے باہر نہیں جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں