فرانس میں گرفتار سعودی کا اپنے ساتھ بدسلوکی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پیرس میں فرانسیسی حکام کے ہاتھوں غلط گرفتاری کے بعد رہائی پانے والے ایک سعودی شہری خالد العتیبی نے کہا ہے کہ ہے کہ گرفتاری کے بعد اس کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔

العتیبی نے "العربیہ/الحدث" چینلوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب پیرس کے ہوائی اڈے پر محکمہ پاسپورٹ نے اسے ریاض جاتے ہوئے روکا۔ اس کی تلاشی لی اور پھر اسے 3 گھنٹے تک ہوائی اڈے پر حبس بے جا میں حراست میں رکھا۔

اس نے کہا کہ بعد میں پولیس اسے ہوائی اڈے کے قریب ایک حفاظتی مرکز میں لے گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس نے فرانسیسی پولیس سے کہا کہ وہ اپنے ملک کے سفارت خانے سے رابطہ کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے وکیل مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔بعد میں وہ اپنے ایک دوست سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا، جس نے جواباً سفارت خانے کو فون کیا۔ سفارت خانہ فوری حرکت میں آیا اور اس نے اپنے ملازمین مجھے تلاش کرنے کے لیے بھیجے۔

خالد العتیبی نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اپنا موبائل فون حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد اسے سفارت خانے سے کال موصول ہوئی۔ سفارت خانے نے میری جگہ کے بارے میں معلومات لیں۔ سعودی سفیر مجھے سے ملنے آئے مگر پولیس نے ملنے نہیں دیا۔

بدسلوکی

جہاں تک فرانسیسی حکام کے اس کےساتھ سلوک کا تعلق ہے اس نے انکشاف کیا کہ حکام کا اس کے ساتھ برتاؤ ٹھیک نہیں تھا۔ انہوں نے اسے بولنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ وہ اس کے ساتھ فرانسیسی زبان میں بات کرتے۔ بعد میں اس نے کہا کہ ایک عربی بولنے والے وکیل نے اسے سمجھایا کہ اسے قتل کے ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

'مجھے گندے کمرے میں رکھا گیا'

خالد العتیبی مزید کہا کہ اسے ایک غلیظ کمرے میں رکھا گیا تھا جس کی دیواریں خون سے رنگی ہوئی تھیں۔ وہ وہاں آرام نہیں کرسکا۔

اس نے بتایا کہ جب وہ کمرے میں تھا تو تین سیکیورٹی والوں نے اس کی طرف دیکھا اور ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے۔ پھر اسے ہتھکڑی لگا کر لے گئے۔ اس کے لیے چلنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

اس نے کہا کہ وہ اسے ایک شخص کی تصویر دکھا رہے تھے۔ جس کو پہچاننے کا کہہ رہے تھے۔اس نے جواب دیا کہ میں اسے نہیں جانتا اور یہ کہ تصویر میں موجود شخص وہ نہیں ہے اور اس کا نام اس سے مختلف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفارت خانے سے کسی سے ملنے کے اصرار کے بعد انہوں نے دوپہر ایک بجے ان سے ملنے کی اجازت دی جہاں وہ سفارت خانے کے ایک اہلکار سے ملے، جس نے جواباً انہیں یقین دلایا اسے جلد ہی رہا کرالیا جائے گا۔

سفارت خانے کا بیان

قابل ذکر ہے کہ سعودی سفارت خانے نےایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس نے واضح کیا تھا کہ العتیبی کو جمال خاشقجی کے معاملے میں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے معاملے پر متعلقہ فرانسیسی حکام کے ساتھ فالو اپ کیا تاکہ اس حقیقت کو ثابت کیا جا سکے کہ شہریوں کے ناموں کی مماثلت ہوسکتی ہے مگر گرفتار سعودی شہری کا جمال خاشقجی کےقتل کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں