سعودی عرب ایرانی سفارت کاروں کو ویزے جاری کرے گا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے مطابق سعودی عرب ایران کے 3 سفارت کاروں کو ویزا دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق یہ سفارت کار جدہ میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے صدر دفتر میں کام کریں گے۔ ادھر امریکی خبر رساں ایجنسی "بلومبرگ" نے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں پیش رفت قرار دیا ہے۔

عبداللہیان نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے یہ منظوری ایک ہفتہ قبل دی گئی۔ جمعرات کے روز تہران میں اپنے عراقی ہم منصب فؤاد حسين کے ساتھ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی ایرانی بات چیت کا اگلا دور جلد ہی عراقی دارالحکومت بغداد میں منعقد ہو گا۔

عبداللہیان کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ ایران اور سعودی عرب کے سفارت خانوں کے بیچ کمیٹیوں کے تبادلے ، سفارت خانوں کے دوبارہ کھولے جانے کی راہ ہموار کرنے اور دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق بغداد میں تہران اور ریاض کے بیچ بات چیت کا اگلا دور عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی اور وزیر خارجہ فؤاد حسين کی کوششوں کی بدولت منعقد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ "میں سعودی عرب کے ساتھ بات چیت آسان بنانے کے سلسلے میں کوششوں پر عراق کا شکریہ ادا کرتا ہوں"۔

سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان 2016ء سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ دونوں ملکوں نے رواں سال براہ راست بات چیت کا سلسلہ شروع کیا۔ اس حوالے سے عراقی کی میزبانی میں 4 ادوار ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب نے مذکورہ بات چیت کو دوستانہ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اردن کے دارالحکومت عَمّان میں عربی انسٹی ٹیوٹ فار سیکورٹی اسٹدیز نے رواں ماہ دسمبر میں سعودی عرب اور ایران سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے بیچ ایک مکالمے کا انعقاد کای۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس نشست میں یمن، لبنان اور شام کے موضوعات زیر بحث آئے۔ تاہم دونوں ملکوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے دانش وروں اور سیکورٹی ماہرین نے اس ضمن میں سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات کو تہران اور ریاض حکومتوں کو ارسال کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں 4 روز تک منعقد ہوئیں۔ ان میں سعودی عرب اور ایران سے تعلق رکھنے والی 12 شخصیات نے شرکت کی۔ اس دوران میں ایرانی جوہری پروگرام اور سیکورٹی امور بھی زیر بحث آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں