’منشیات کی اسمگلنگ‘،حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

20 دسمبر کوغزہ کی پٹی میں سیکیورٹی فورسز (حماس کے زیر کنٹرول) نے منشیات کی ایک بڑی مقدار "چرس" کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دی۔ یہ منشیات تجارتی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ جسے غزہ کی پٹی کی کرم ابو سالم کراسنگ سے داخل کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی پولیس میں انسداد منشیات کے محکمے کے ڈائریکٹر احمد القدرہ نے بتایا کہ وسیع پیمانے پر تلاشی لینے کے بعد سیکیورٹی سروسز نے 10 کلو گرام مشتبہ منشیات کو قبضے میں لے لیا جس کی کل قیمت 200,000 ڈالر سے زائد ہے۔اسے مجاز اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسرائیل کے زیر کنٹرول کراسنگ کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے لیکن حالیہ عرصے میں اس نوعیت کے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں غزہ کی سیکیورٹی سروسز کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے کہ آیا منشیات کی اسمگلنگ کا تعلق تل ابیب سے ہے جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کو منشیات کے دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

غزہ اسرائیل کے ساتھ دو کراسنگ سے جڑاہوا ہے۔شمال میں"ایریز" گذرگاہ واقع ہے جو صرف لوگوں کی نقل و حرکت تک محدود ہے۔ جنوب میں کرم ابوسالم گذرگاہ ہے۔ اس کراسنگ سے غزہ کو سامان تجارت کی سپلائی کی جاتی ہے۔ یہ غزہ کی اسرائیل کے ساتھ واحد تجارتی کراسنگ ہے۔

اسرائیل پر الزام ہے

غزہ میں منشیات کی اسمگلنگ یا منشیات کا استعمال فلسطینی قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے جس کی سزا عمر قید ، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

حماس کے زیرکنٹرول پارلیمانی بلاک نے منشیات کی اسمگلنگ پر مجرموں کو سزائے موت مقرر کی ہے۔

نارکوٹکس کنٹرول ایجنسی میں کراسنگ اینڈ پورٹس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار احمد الشاعر کا کہنا ہے کہ اسمگلر اسرائیل سے غزہ میں داخل ہونے والے سامان کے ٹرکوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روٹین کے چیک اپ میں منشیات کے سامان کی تلاشی ایک بڑا بوجھ ہے کیونکہ تلاشی اور چیکنگ کا عمل کسی مشین سے نہیں بلکہ ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔

الشاعر کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کی پٹی میں منشیات کی اسمگلنگ اور ترویج میں اسرائیلی فریق کا ہاتھ ہے۔ نوجوان طبقے کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے تحت غزہ کی پٹی کو منشیات کے سمندرمیں دھکیلا جا رہا ہے۔

منشیات کا پتا لگانے والے آلات ممنوع ہیں

الشاعر نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی حکام کو الیکٹرانک اور تکنیکی آلات متعارف کرانے سے روک رکھا ہے۔ وہ ان آلات کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسمگل شدہ منشیات کا پتہ لگانے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کنٹرول ڈیوائس کی کارروائیاں صرف قدیم طریقوں تک اور تربیت یافتہ کتوں تک محدو ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے زیر کنٹرول کراسنگ سے غزہ تک منشیات کی اسمگلنگ کا عمل ایک چھپی ہوئی جنگ میں بدل گیا اور کنٹرول اپریٹس دستی طور پر کام کرنے کے باوجود کامیابیاں حاصل کرنے اور مقدار کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں