لبنان کے ساتھ ہمارے تعلقات غیر ذمے دارانہ بیانات سے زیادہ گہرے ہیں : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں سعودی عرب کے سفیر ولید بخاری نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کے ملک کے لبنان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ تعلقات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں کہ انہیں غیر ذمے دارانہ اور فضول بیانات سے نقصان پہنچے۔

جمعرات کے روز اپنے بیان میں سعودی سفیر نے واضح کیا کہ مملکت نے لبنانی عوام کے شانہ بشانہ رہنے کا عزم کیا ہوا ہے۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ اس طرح کے بیانات لبنانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ لبنان کسی بھی ایسی قوت کی گزر گاہ یا ٹھکانہ بنے جو اس کے امن و استحکام یا عرب شناخت کو نقصان پہنچانے کا مقصد رکھتی ہو۔

ولید بخاری کے مطابق دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کا ریاست کے ادارے اور اس کے آئینی اداروں پر اپنا کنٹرول مسلط کرنا یہ لبنان میں امن کو مفلوج بنانے والا حقیقی عامل ہے۔

بیروت میں سعودی سفیر نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لبنان سے سامنے آنے والی ایسی سیاسی ، عسکری ، سیکورٹی اور ذرائع ابلاغ کی سرگرمیوں کا سلسلہ روکا جائے جو سعودی عرب اور خلیجی ممالک اور ان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

انہوں نے باور کرایا کہ دہشت گرد ملیشیا حزب اللہ اور اس کا عسکری اور سیاسی برتاؤ عرب قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

سعودی سفیر نے کہا کہ لبنان کے بہتر مستقبل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لبنان کے ایک سابق وزیراعظم فؤاد السنيورہ یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ 2006ء میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مہم جوئی کے نتیجے میں ہونے والی بڑی تباہی کے بعد سعودی عرب لبنان کے لیے سپورٹ پیش کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ العربیہ نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ جنگ کے دو ماہ بعد خلیجی ممالک کی بدولت لبنانی بچے دوبارہ اسکولوں میں جانے کے قابل تھے۔ اسی طرح 1.15 لاکھ رہائشی یونٹوں کی دوبارہ تعمیر عمل میں آئی جس میں سب سے زیادہ فنڈنگ سعودی عرب کی جانب سے تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں