’المعلاۃ قبرستان جہاں صحابہ کرام کی آخری آرام گاہیں بھی موجود ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مکہ معظمہ میں المعلاۃ قبرستان سعودی عرب کے قدیم ترین اور سب سے بڑا قبرستان قراردیا جاتا ہے۔ مکہ کی تاریخ اور سیرت نبوی کے ایک محقق سمیر برقعہ نے اس تاریخی قبرستان کے بارے میں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کی۔

انہوں نے کہا کہ "المعلاۃ" کا قبرستان مسجد الحرام سے تقریباً 2 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور اسے مکہ کے لوگوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کے شہری اپنے مُردوں کو وہیں دفن کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر بیرون ملک سے آیا مسلمان حج یا عمرے کے دوران فوت ہوجائے تو اسے بھی اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبرستان اموی دور تک مکہ کے شہری حدود سے باہر تھا۔

سمیر برقہ نے کہا کہ قبرستان کی فضیلت کے بارے میں مشہور احادیث ہیں۔ اسی قبرستان میں ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے قاسم بھی آسودہ خاک ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد چچاؤں کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں۔ ام المومین اسما بنت ابو بکر، ان کے بھائی عبدالرحمان بن ابوبکر، ان کے صاحب زادے عبداللہ بن زبیر اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ صحابہ بھی آخری آرام گاہیں بھی اسی قبرستان میں موجود ہیں۔

مقدس دارالحکومت [مکہ معظمہ] کی بلدیہ کے ترجمان رعد الشریف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ المعلاۃ قبرستان میں 25000 قبریں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ سیکریٹریٹ نے میتوں کی نقل وحمل، میت کی تدفین اور قبرستانوں کی دیکھ بھال کے انتظامات اور دیگر سروسز فراہم کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں