سعودی عرب میں "شیعہ تحریک"کی سوچ میں تبدیلی کی بحث!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

’سیاسی اسلام‘ کے بارے میں سعودی عرب میں موجود شیعہ برادری میں بحث نئی نہیں بلکہ یہ برسوں سے جاری رہی ہے۔ "مقامی تحریک" میں یہ بحث "سنی بیداری" کے عمل اور اس کا ردعمل تھا۔ یہ سنی بیداری کی تحری اسّی کی دہائی میں خلیج عرب اور ارد گرد کے سیاسی اور سلامتی کے حالات کا نتیجہ تھی۔

پہلی بات چیت!

یہ بحثیں خواہ اشرافیہ کے درمیان ہوں یا کونسلوں اور واٹس ایپ گروپوں میں ایک مجموعی بحث کی پیداوار ہیں جو 1979 تک پھیلی ہوئی ہے۔ جب جناب روح اللہ موسوی خمینی فرانس سے ایران واپس آئے اور جہیمان العتیبی نے حرم مکی شریف پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ وہاں سے "سیاسی اسلام" اپنے سنی اور شیعہ دونوں دھاروں میں تاریخ پر سابقہ تنظیموں اور تحریروں کے اثر کو نظر انداز کیے بغیر دوبارہ سامنے آیا۔ اس نے سعودی شیعوں کے درمیان جو تنظیمیں پیدا کیں۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر کی سیاسی اسلام کے نظریات پر مبنی تحریکیں ظہورمیں آئیں۔ ان میں سعودی عرب کے اہل تشیع بھی شامل تھے۔ ان تنظیموں میں جزیرۃ العرب میں اسلامی انقلاب اور حزب اللہ الحجاز جیسی شیعہ سیاسی اسلام کی تحریکیں نمایاں طورپر شامل ہیں۔ ان کے ساتھ نوجوانوں کے گروپ بھی سامنے آئے جنہوں نے سیاسی اسلام کو دینی اور ابلاغی محاذوں پر آگے بڑھایا۔

میڈیا کی چکا چوند سے دور سعودی عرب میں شیعہ دانشوروں اور نوجوانوں کے ہاں شیعہ مجالس میں سیاسی اسلام کی بحث جاری رہی۔ یہ بحث القطیف، سیھات، صفوی، العوامیہ، تاروت، دمام اور الاحسا کی مجالس کے ساتھ الریاض کے مخصوص پلیٹ فارمز پر بھی دیکھی اور سنی گئی۔ریاض میں قائم شاہ سعود یونیورسٹی کے ہاسٹل میں بھی شیعہ سیاسی اسلام کی بحث دیکھی گئی۔ اس بحث میں شیعہ مکتب فکرکے مذہبی نظریات کے فروغ، فقہی علوم کی تشکیل نواور انقلابی سوچ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔

پچھلے تجربات!

سنہ 2005ء میں لندن سے شائع ہونے والے اخبار’الحیات‘ کے ’شباب‘ ایڈیشن میں’مذہبی زاکر۔ سپر اسٹار دین دار‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا۔ اس مضمون کی اشاعت نے ایک بڑے تنازع کو جنم دیا۔ خلیج کے ایک مشہور شیعہ زاکر اور بحرینی شیعہ رہ نما الشیخ حسین الاکرف نے اس کے جواب میں ایک مفصل رپورٹ تحریر کی۔ اس کے علاوہ قطیف کے ایک شیعہ رہ نما ابو جواد نے ایک تعزیتی قصیدے میں اس کا رد لکھا۔

شیعہ سلفیت!

2006 میں میں نے بحرین کے "الوقت" اخبار میں ایک مضمون شائع کیا جو ایک بھرپور تجربہ تھا۔اسے خلیجی پریس نے مالی وجوہات کی بناء پر رکنے کے بعد کھو دیا۔

اخبار کے الرائے صفحے کے انچارج صحافی محمد فاضل جو "اے ایف پی" کے تجربہ کار صحافی رہے ہیں متنوع صفحہ قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ اس صحفے میں انہوں نے اسلام پسند، لبرل، قدامت پسند۔ اور بائیں بازو کو اپنے آرا پیش کرنے کا موقع دیا جاتا۔ میں نے ایک نقطہ نظر کا اظہار کیا جو بہت سے لوگوں کے لیے چونکا دینے والا تھا۔ اس میں میں نے شیعہ معاشروں میں سلفی گفتگواور مذہبی دھاروں کے ایک گروہ کی طرف سے اختیار کیے جانے والے خارجی طریقوں پر تنقید کی۔اس میں لکھا کہ "سلفیت" کے باوجود مختلف فرقےتکثیریت اور ہیٹروڈوکسی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن میں ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ہیں۔ کیونکہ سلفیت کی جڑ "خارج" ہے اور اس وجہ سے کوئی بھی خارجی پوزیشن اس کی اصل میں ایک بنیاد پرست سلفی پوزیشن کو متاثر کرتی ہے۔

اس وقت، لوگ شیعہ برادری میں "سلفیت" کی اصطلاح استعمال کرنے کے عادی نہیں تھے۔ مجھے بہت سے جوابات اور تنقیدیں موصول ہوئیں اور ان کی سختی کے باوجود انہوں نے مجھے اپنے خیال کی درستگی پر یقین اور قابل اعتماد اور سائنسی جوابی تنقید کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹایا۔ تاہم میں کہوں گا کہ وہ لوگ جنہوں نے اس وقت میرا دفاع کیا اور میرے ساتھ کھڑے ہوئے وہ دوستوں کا ایک گروہ ہیں جو خود "شیعہ تحریک" کے فرزند ہیں۔انہوں نے مجھ سے اختلاف کیا لیکن یقین کیا کہ ہم ان کے بیٹے ہیں۔ ایک ملک، ایک روٹی، ایک مشترکہ بچپن اور محبت جو سب کو مل سکتی ہے۔ اس لیے کہ وہ "سچے مومن" تھے جن کے ہاتھ خون سے رنگے نہیں تھے۔ یا ان کے ضمیر نے اپنے وطن سے غداری نہیں کی تھی۔ انہوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں