’جب ایک بے کار کپڑے نے سعودی ڈیزائنرکی قسمت بدل دی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دس سال پہلے نوجوان سعودی خاتون ریم المطیری نے اپنے شوق کو سوئی اور اون کے ذریعے بُننا شروع کیا۔ المطیری کے بنائی کے شوق کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ ہائی اسکول کی طالبہ تھی۔

سوئی اور اون کی مدد سے فیشن کی ڈیزائننگ کا آغاز کرنے والی ریم المطیری اب ایک مشہور برینڈ کی شکل اختیار چکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے المطیری نے کہا کہ سلائی کڑھائی کا کام اس کا شوق تھا مگراس کے تیار کردہ ایک ’پیس‘ نے اس کی قسمت بدل دی۔

تاہم اس مرحلے میں المطیری کی توجہ سلائی کڑھائی کی طرف مبذول ہونے کے دوران اس کے ہم جماعتوں کی علمی برتری واضح ہوگئی تھی جب کہ ریم المطیری پڑھائی میں ان سے پیچھے رہنے لگی۔

ریم نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ سوئی کو کیسے پکڑنا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ میں اس شعبے میں کبھی کچھ نہیں سمجھ سکوں گی۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں میں نے ہمت نہیں ہاری اور اس پیشے کو تھوڑا سا سمجھنے کی کوشش کی۔ اپنی مصروفیت کے باوجود میں اس پیشے کو سمجھنے کے لیے کوشاں رہی۔ میں یونیورسٹی کے لیکچرز کے دوران مشق کرتی۔ اس وقت میری سہیلیوں کو میری بُنائی اب بھی یاد ہے، جسے میں نے دوسرے دن جلدی سے پہنا تھا۔

یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریم نے یوٹیوب کے ذریعے سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یوٹیوب سے مسلسل اسباق لینے کے نتیجے میں اس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔ ا نے مزید کہا کہ اس وقت میرے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اپنے کاروبار کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے فیشن کو فروغ دینے میں دو سال لگے۔ میرے فالورز کی کمی کے باوجود میں نے اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ لوگوں کی بڑی تعداد مجھے فالو نہ کر لے۔

المطیری نے سلائی کی بایکیوں کو سیکھنےکے لیے بُنائی کی مہارت کو شامل کیا۔ وہ خود لباس کی شکل کا انتخاب کرتی ہے جسے وہ ہر وقت کسی خاص فیشن کی پابند کیے بغیر پہننے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ کپڑے کے معیار کو جانچتی ہے۔

خوش قسمت لباس

ملبوسات اور بچوں کے پہناووں نے بھی سعودی آرٹسٹ کا زیادہ تر کام حاصل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں مردوں کے ڈیزائن میں دلچسپی نہیں لیتی۔ شاید مستقبل میں مجھے نہیں معلو۔ میں وکٹورین دور کے فیشن کی طرف مائل ہوں۔

ریم المطیری کا کہنا ہےکہ اسے وہ لباس اچھی طرح یاد ہے جو لوگوں کے ساتھ اس کے تعارف کا باعث بنا۔ میں نے کپڑا خریدا تو مجھے یہ پسند نہیں آیا اور اسے مہینوں تک چھوڑ دیا اور اسے دکاندار کو واپس کرنے کی کوشش کی مگر واپس نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اسی کے ایک ٹکڑے کو ڈیزائن کیا اور اسے اپنےفالورز کے ساتھ شیئر کیا جو میرے لیے خوش قسمت لباس بن گیا کیونکہ اس نے میری زندگی مکمل طور پر بدل دی۔ اس ٹکڑے نے مجھے اپنے پروجیکٹ کو بڑھانے کے لیے ایک اہم رقم فراہم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں