مقبوضہ مغربی کنارے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے روزمنعقدہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں فلسطینیوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔

ان بلدیاتی انتخابات میں زیادہ ترامیدوارآزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔البتہ بہت سے امیدواروں کا صدر محمودعباس کی الفتح پارٹی سے تعلق ہے اور اس کے نتائج کا زیادہ تر انحصار مقامی حرکیات پرہے۔غزہ کی حکمراں حماس نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے اور اپنے زیرنگیں علاقے میں ان کے انعقاد سے بھی انکار کردیا تھا۔

دسمبر میں مقبوضہ مغربی کنارے کے دیہی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔ہفتے کے روز شہری علاقوں میں پولنگ ہوئی ہے اور وہاں الفتح کی مخالفت زیادہ نظرآئی ہے لیکن مقامی انتخابات میں اس کی قیادت کے خلاف کوئی واضح ریفرنڈم ہونے کا امکان نہیں۔

فلسطین کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق 102 حلقوں میں سے صرف 50 میں ایک سے زیادہ انتخابی فہرستوں پر حصہ لینے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2017ء میں منعقد ہوئے تھے۔

مغربی کنارے کے مرکزی شہررام اللہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں کے باہررائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد دیکھی گئی ہے۔رام اللہ ہی میں صدرمحمود عباس کے زیرقیادت فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے صدردفاتر قائم ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پی اے 1990ء کی دہائی میں طے شدہ امن معاہدوں کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا انتظام کرتی ہے اور امن وامان کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔اس وجہ سے وہ فلسطینیوں میں انتہائی غیر مقبول ہے اورحالیہ برسوں میں صدرعباس کی حمایت میں کمی آئی ہے کیونکہ پی اے کو ایک بدعنوان اورمطلق العنان ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یادرہے کہ صدرمحمودعباس نے گذشتہ اپریل میں 15 سال کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کوغیرمعیّنہ مدت کے لیے ملتوی کردیا تھا اور اسرائیل کی جانب سے اس انکار کا حوالہ دیا تھا کہ آیا وہ مشرقی یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں ووٹنگ کی اجازت دے گا یا نہیں۔ اس وقت ان کی الفتح پارٹی تین دھڑوں میں منقسم ہوچکی تھی اور وہ ایک اور شکست کی طرف گامزن نظر آئی۔

الفتح کی سیاسی حریف حماس نے 2006 میں منعقدہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے اس کی الفتح کے ساتھ ایک طویل مخاصمت کا بھی آغاز ہوا تھا۔تب غزہ میں ایک ہفتے تک شدید لڑائی ہوئی تھی اوراس کے نتیجے میں حماس اس علاقے پر قابض ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں دھڑے انتخابات کے انعقاد پرمتفق نہیں ہوسکے اورعباس 2009ء میں صدارتی مدت ختم ہوجانے کے باوجود برسراقتدار چلے آرہے ہیں۔

گذشتہ سال مئی میں اسرائیل کی غزہ پرمسلط کردہ جنگ کے بعد صدرعباس کی مقبولیت میں مزید کمی آئی ہے جبکہ حماس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی مرکزبرائے پالیسی اور سروے کے رائے عامہ کے حالیہ جائزے کے مطابق الفتح نے اس وقت سے دوبارہ حمایت حاصل کرلی ہے لیکن خود محمودعباس فلسطینیوں میں انتہائی غیرمقبول ہیں۔

حالیہ سروے سے پتاچلا ہے کہ 73 فی صد فلسطینی چاہتے ہیں کہ صدرعباس مستعفی ہو جائیں اور 55 فی صد کی اکثریت فلسطینی اتھارٹی کو اثاثے سے زیادہ بوجھ کے طور پر دیکھتی ہے۔

سروے میں مقامی انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر صرف 14 فی صد نے کہا کہ وہ سیاسی جماعت کی بنیاد پر ووٹ دیں گے جبکہ سب سے زیادہ تعداد یعنی 42 فی صد کا کہنا تھاکہ وہ مقامی خدمات کی فراہمی کی بنیاد پرفیصلہ کریں گے۔رائے دہندگان نے مغربی کنارے میں 1200 فلسطینیوں کا بالمشافہہ انٹرویو کیا تھا۔اس تحقیق میں غلطی کا امکان تین فی صد پوائنٹس تھا۔

ان انتخابات کے بعدممکنہ طور پر پی اے کو یورپی عطیہ دہندگان ممالک کی جانب سے مدد ملے گی۔انھوں نےگذشتہ سال ہونے والے انتخابات کی حمایت کا اظہار کیا تھا لیکن یورپی ممالک اسرائیل کو مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے پر قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے اور غزہ کے ساتھ مشرقی یروشلم (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیاتھا اور بعد میں مشرقی القدس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے آج تک اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔صرف امریکا اور چند ایک ممالک نے ایسا کیا ہے ۔ فلسطینی تینوں علاقوں کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔وہ مشرقی یروشلم کو اس مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں