’لوک داستانوں‘ کو فن پاروں میں پیش کرنے والے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں فائن آرٹ کے ایک آرٹسٹ صالح الشہری نے ’لوک داستانوں‘ کو آرٹ کی شکل میں پیش کرکے فوکلور آرٹ کو ایک نئی شکل دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الشہری نے کہا کہ میں نے اپنی پینٹنگز کی مدد سے میں اپنی پینٹنگز کے ذریعے ایک حقیقت پسندانہ منظر پیش کرنے اور اسے ایک مختلف تصویر اور منظر کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اپنے فنکارانہ انداز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بعض اوقات علامت پرستی کی طرف مائل ہوتا ہوں۔ اس لیے میری پینٹنگز ایک جمالیاتی اندازمیں نمودار ہوتی ہیں جو خوشی کی کیفیت کے روشن رنگوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس نے وضاحت کی کہ میں کچھ علامتیں لگانا پسند کرتا ہوں۔ خواہ آرٹ ورک میں رنگ یا عناصر کا انتخاب کرنا ہو۔ کچھ علامتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہیں آتیں کیونکہ وہ کسی ورثے کے کام میں محبت کی کہانی کی علامت ہوتی ہے جیسے کہ لوک رقص کو پینٹنگ میں پیش کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں ایسی ڈرائنگ بناتا ہوں جس میں کوئی کہانی بیان کی جاتی ہے یا خاص منظر کی پینٹنگ بناتا ہوں جس میں موجودہ طرز زندگی یا ماضی کے اسلوب زندگی کو بیان کرتا ہوں۔

لوک داستانوں میں اپنی دلچسپی کے راز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ "لوک داستانوں کی خوبصورتی ہماری ثقافت کی جڑیں کھودنے میں مضمر ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کی مختلف علاقوں میں ثقافت اور طر زندگی میں بھی تنوع موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں