یمن میں پہلی بار سرگرم ہونے کے گیارہ سال بعد ایرانی فضائی کمپنی ''ماہان ایئر'''ایک مرتبہ پھر ملک کی حساس ترین جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے مرکز میں آ گئی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جولائی کے آغاز میں ماہان ایئر کا ایک طیارہ حوثی وفد کو صنعاء سے تہران لے گیا تاکہ وہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کر سکے۔
بعد ازاں 13 جولائی کو اسی طیارے نے دوبارہ صنعاء واپس آنے کی کوشش کی، جسے یمنی حکومت نے خطرناک اشتعال انگیزی اور یمن کی خودمختاری کی کھلی ایرانی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے یمنی فورسز نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طیارہ وہاں اترنے کے بجائے حوثیوں کے زیرِ قبضہ حدیدہ ایئرپورٹ کا رخ کرنے پر مجبور ہو گیا، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے غیر فعال تھا۔
اس واقعے کے بعد سیاسی اور عسکری سطح پر شدید ہلچل مچ گئی اور معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس تک جا پہنچا۔
بظاہر یہ تنازع ایک فضائی پرواز کا معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں یمن کی فضائی حدود پر اختیار اور یہ سوال موجود ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کے انتظام و انصرام کا قانونی حق کس کے پاس ہے۔
یمنی حکومت نے واضح کیا کہ وہ حوثی وفد کی واپسی یمن ایئرویز کے ذریعے کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، کیونکہ یہی ملک کی واحد قانونی قومی فضائی کمپنی ہے۔
حکومت نے تسلیم شدہ ضوابط کے تحت سول پروازیں بحال کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی، تاہم حوثیوں اور ایران نے صرف ''ماہان ایئر'' کے استعمال پر اصرار کیا۔
مبصرین کے مطابق اس اصرار کا مقصد ریاستی اداروں کی نگرانی سے باہر ایک مستقل فضائی راستہ قائم کرنا ہے، جس سے ایران کا یمن میں اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ ایران، جس کے پاس سرکاری اور نجی شعبے کی 24 سے زائد فضائی کمپنیاں موجود ہیں، آخر سرکاری قومی ایئرلائن ''ایران ایئر'' کے بجائے ''ماہان ایئر'' پر ہی کیوں انحصار کر رہا ہے؟
سپاہِ پاسداران اور قدس فورس سے تعلق
اس سوال کا جواب ماہان ایئر کے اس عملی اور سکیورٹی ریکارڈ میں پوشیدہ ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران اس کمپنی کا نام روایتی سول ایوی ایشن کے بجائے ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب اور اس کی قدس فورس کے لیے لاجسٹک معاونت اور بین الاقوامی پابندیوں سے جڑا رہا ہے۔
یمنی خبر رساں ویب سائٹ ''المصدر آن لائن'' کی رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں کہ ماہان ایئر یمن کے معاملے میں سامنے آئی ہو۔
فروری 2015 کے آخر میں، جب حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کیے چند ماہ ہی گزرے تھے، حوثیوں کے زیرِ انتظام سول ایوی ایشن حکام نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت صنعاء اور تہران کے درمیان 28 براہِ راست پروازیں چلانے کا فیصلہ ہوا، یعنی دونوں ممالک کی جانب سے ہفتہ وار 14، 14 پروازیں۔
معاہدے کے صرف دو روز بعد ماہان ایئر کا پہلا طیارہ صنعاء ایئرپورٹ پر اترا، جس کے ساتھ تہران اور صنعاء کے درمیان پہلی براہِ راست فضائی رابطہ سروس کا آغاز ہوا۔
تاہم بعد میں آپریشن عاصفۃ الحزم شروع ہونے اور یمن کی فضائی حدود بند کیے جانے کے بعد یہ پروازیں معطل ہو گئیں۔
حساس مشنوں کی فضائی بردار
ماہان ایئر1991 میں ایران کے جنوب مشرقی شہر کرمان میں قائم کی گئی۔ یہ ایرانی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی پہلی نجی فضائی کمپنی تھی، مگر اس کی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسے جلد ہی ایران کے علاقائی اثر و رسوخ سے جڑے حساس سکیورٹی کردار کے حوالے سے بھی جانا جانے لگا۔
2011 میں امریکی وزارتِ خزانہ نے اس کمپنی پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ماہان ایئر اپنے طیاروں اور خدمات کو سپاہِ پاسداران کی قدس فورس کے اختیار میں دے کر اہلکاروں، فوجی سازوسامان اور اسلحے کو ایران کے بیرونی محاذوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔پابندیاں صرف کمپنی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے چیئرمین حمید عرب نژاد کو بھی ان کی زد میں لایا گیا۔
اس کے علاوہ مختلف ممالک میں موجود ایسے ثالثوں اور نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں، جن پر الزام تھا کہ وہ پابندیوں سے بچنے کے لیے کمپنی کو پرزہ جات اور مرمت کی سہولتیں حاصل کرنے میں مدد دیتے تھے۔
گزشتہ برسوں کے دوران ماہان ایئرشام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کے لیے ایران کے قائم کردہ فضائی پل کا بنیادی ستون سمجھی جاتی رہی، جبکہ عراق اور لبنان میں ایران کے اتحادی گروہوں کو رسد پہنچانے کے حوالے سے بھی اس کا نام بارہا سامنے آیا۔
کمپنی کی سرگرمیاں صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں۔ 2020 میں بین الاقوامی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ ماہان ایئر کے طیارے وینزویلا کا سونا تہران منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوئے، جس کے بدلے ایران نے وینزویلا کو توانائی کے شعبے میں مدد اور تکنیکی مہارت فراہم کی۔
روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد اکتوبر 2024 میں یورپی یونین نے بھی "ماہان ایئر" پر نئی پابندیاں عائد کیں۔
کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے روس کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون منتقل کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس سے چند سال قبل جرمنی، فرانس اور اٹلی بھی قومی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر اپنی سرزمین پر "ماہان ایئر" کی پروازوں کے اجازت نامے منسوخ کر چکے تھے۔
شکوک و شبہات سے بھرا ماضی
ماہان ایئرکا متنازع اور شکوک و شبہات سے بھرپور ماضی ہی اس سخت مؤقف کی وضاحت کرتا ہے جو یمنی حکومت نے حالیہ دو پروازوں کے معاملے میں اختیار کیا۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب عبداللہ السعدی نے یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا اور اپنی تقریر میں خاص طور پر فضائی کمپنی کی شناخت اور "ماہان ایئر" کے سکیورٹی پس منظر پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کا نام سپاہِ پاسداران کی حمایت سے منسلک رہا ہے اور اسی وجہ سے اس پر بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔
عبداللہ السعدی نے مزید بتایا کہ یمنی حکومت کے پاس ایسی معلومات اور شواہد موجود ہیں جو وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی اور بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم کے سامنے پیش کرے گی، تاکہ تحقیقات کی جا سکیں کہ آیا ان دونوں پروازوں کے ذریعے ایسے افراد، فوجی سازوسامان یا ٹیکنالوجی منتقل کی گئی تھی جو حوثیوں پر عائد اسلحہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔