سعودی عرب میں جسمانی طور پرجڑے بچوں کا طویل آپریشن کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے جسما نی طور پر آپس میں جڑے دو یمنی بچوں یوسف اور یاسین کو طویل آپریشن کے بعد کامیابی سے ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا ہے۔یہ پیچیدہ سرجری ماہر سرجیکل ٹیم نے مسلسل 15 گھنٹے میں مکمل کی۔ سرجری کا عمل ڈاکٹر معتصم الزعبی کی قیادت میں مکمل کیا گیا۔ آپریشن میں پیڈیاٹرک نیورو سرجری، پلاسٹک سرجری، اینستھیزیا، نرسنگ اور تکنیکی ماہرین کے 24 ماہرین نے حصہ لیا۔

سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان ریلیف مرکز کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عباللہ الربیعہ نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ آپریشن سمجھا تھا۔اس سے قبل جڑواں بچوں کے دماغی رگوں کو الگ کرنے کے لیے دو پچھلے آپریشن کیے گئے تھے۔

الربیعہ نے نشاندہی کی کہ پیڈیاٹرک نیورو سرجری، پلاسٹک سرجری، اینستھیزیا کے 24 ماہرین اور نرسنگ اور تکنیکی ماہرین کے خصوصی کیڈرز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن چار مراحل میں کیا گیا: پہلے مرحلے میں اینستھیزیا، دوسرے میں سرجیکل اور نیویگیشن، تیسرے میں کھوپڑی اور دماغ کی علیحدگی اور چوتھے مرحلے میں دماغ کی بحالی کا آپریشن کیا گیا۔

سرجیکل ٹیم نے وضاحت کی کہ آپریشن پیچیدہ تھا، اور جڑواں بچوں یاسین کو چپکنے کے نتیجے میں خون بہہ جانے کی وجہ سے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جسمانی طور پر جڑواں بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن میں میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرالربیعہ نے ٹیم کی جانب سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان شکریہ ادا کیا۔

جڑواں بچوں کے والدین نے بھی سعودی قیادت بالخصوص شاہ سلمان اور ولی عہد کی طرف سے بچوں کے علاج میں معاونت کرنے میں ان کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں جڑواں بچوں کو الگ کرنے کے سعودی پروگرام کے تحت مملکت میں یہ 51 واں آپریشن ہے جس میں تین براعظموں کے 23 ممالک کے 122 سے زیادہ جڑواں بچوں کے آپریشن کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں