آرٹ کے ذریعے خواتین کی ترقی کے لیے کوشاں سعودی سمیرا اسماعیل کیا چاہتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی ایک خاتون آرٹسٹ نے اپنے آرٹ کے ذریعے مملکت کی خواتین کی ترقی اور انہیں با اختیار بنانے میں ان کی معاونت کی منفرد مثال قائم کی ہے۔

آرٹسٹ سمیرا اسماعیل کی پینٹنگز امپریشنسٹ اسکول کی خصوصیات رکھتی ہیں۔ انہوں نے امریکا میں اپنے قیام کے دوران آرٹ میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے آب ورنگ سے تیار کردہ اپنی پینٹنگز امریکا میں پیش کرنا شروع کیں اور ان پینٹنگزکے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی ڈرائنگز سعودی عرب کے رسوم ورواج کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مگران کا اصل مشن آرٹ کے ذریعے خواتین کی معاونت کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی طریقوں سے کام کیا اور دوسروں کے ساتھ مشترکہ تعاون کے دروازے کھولنے کی کوشش کی۔

سمیرہ نے خواتین کی معاونت کے لیے آرٹ ورکشاپس کا اہتمام کیا۔ وہ لیکچرز اور مشاورت سرگرمیاں بھی منعقد کرتی ہیں تاکہ سعودی عرب کے آرٹ اور خلیجی ثقافت کو با اختیار بنایا جا سکے۔ انہوں نے امریکا میں ایک آرٹ کمپنی کے قیام اور ایک ادارہ بننے کے لیے ایک درست فنکارانہ اور ثقافتی راستہ اختیار کیا اور خواتین کی معاونت کے لیے ورکشاپس بصری فنون کے تربیتی کورسز کا انعقاد کیا۔

"فنکار کو بااختیار بنائیں، آرٹ کو بااختیار بنائیں" کا سلوگن اختیار کرنے والی سمیرہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ میرا ہدف خواتین ہیں جو معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔

سمیرا نے اپنے عملی اور خصوصی تجربات سے پیدا ہونے والے اپنے فلسفے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے 20 سال سے زائد فنی کیریئر کے دوران مقامی یا عالمی ثقافتوں کے بارے میں سیکھنے پر توجہ مرکوز کی۔ اس تجربے کے دوران میں نے سیکھا کہ کامیابی اور ناکام، صبر، استقامت سیکھنے کے عمل کا حصہ ہیں جس سے ہم اپنے فن میں دوسروں سے آگے نکل سکتےہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے آرٹ کا سفر کیسے شروع کیا؟ تو سمیرہ نے بتایا کہ مجھے لگا کہ مجھے فکری اور ثقافتی خول سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔میں صحیح طریقے سے آرٹ سیکھنے کے لیے ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھی جو اس مقصد کے لیے معاون ثابت ہو۔سنہ 1997ء میں مجھے پتا چلا کہ مشرقی الخبر کے علاقے میں ایک آرٹ اسکول موجود ہے۔ میں نے اس اسکول میں داخلہ لیا اور وہاں سے مجھے اکیڈیمک آرٹ سے شناسائی ہوئی۔ جو کچھ ہم صرف کتابوں میں پڑھتے تھے وہ اس اسکول میں سکھایا جاتا تھا۔ وہاں سے میں نے ایک پیشہ ور آرٹ سیکھنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے فنکارانہ کام کے رنگوں سے ڈیزائن بنانے ، قلم سے خطاطی اور ڈیجیٹل کےآلات کے ذریعے ڈرائنگ کرتی رہی۔

سمیرہ نے مزید کہا کہ وہ امریکا میں بہت سے آرٹ میگزینز کا بھی باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے وہ پینٹنگ اور عمومی طور پر آرٹس کے مختلف مضامین سے بہت کچھ سیکھتی ہیں۔

آرٹ اسکول بھی اس کی توجہ کا مرکز رہتا ہے اور اسے بھی فالو کرتی ہیں۔ کیونکہ ہر اسکول کا ایک انداز ہوتا ہے جو ایک مجموعی، تخلیقی یا اختراعی فنکارانہ نظام سے نکلتا ہے۔ لیکن میں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار امپریشنسٹ اسکول سے کیا جسے میں ایک فنکار کے طور پر اپنی تشکیل کا ایک لازمی حصہ سمجھتی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں