اسرائیلی عدالت نے جیل توڑنے والے 6 فلسطینیوں کوپانچ سال قید کی سزا سنادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی عدالت نے اتوار کے روز چھے فلسطینی قیدیوں کو گذشتہ سال اپنی جیل کوٹھڑی سے سرنگ کھود کر فرار ہونے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔اسرائیل میں کئی دہائیوں میں اپنی نوعیت کا جیل توڑنے کا یہ منفرد واقعہ تھا۔

اسرائیلی فورسزنے انتہائی سکیورٹی جیل کو توڑنے کے واقعےکے بعد ملک کے شمال اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مفرورافراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی تھی۔مفرور فلسطینی قیدی مزاحمتی تنظیموں کے ارکان تھے۔ ان پر کئی روز کے بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دوبارہ قابوپالیا تھا۔

واضح رہے کہ جیل سے فلسطینیوں کے اس جرآت مندانہ فرار کی خبرتمام اسرائیلی نیوزچینلوں پر چھائی رہی تھی۔انھوں نے اسرائیل کی جیل سروس پر شدید تنقید کی تھی اور حکومت کوواقعہ کی تحقیقات شروع کرنے پر مجبورکردیا۔

مختلف اطلاعات کے مطابق ان افراد نے اپنی مشترکہ جیل کوٹھڑی کے فرش سے ایک سرنگ کھودی جس کا کئی ماہ کے دوران پتانہیں چلا اور وہ جیل سے باہر ایک سوراخ سے نکلنے کے بعد سوئے ہوئے محافظوں کو جل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

جج نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے:’’سزا میں اس حقیقت کو مدنظررکھاگیا ہے کہ جیل توڑنے سے قوم کئی دنوں تک مفلوج رہی، قیدیوں کو دوبارہ پکڑنے میں اخراجات لگے اور عمرقید کی سزا والے قیدیوں کے فرار کی وجہ سے عوامی سلامتی کو نقصان پہنچاتھا‘‘۔

پانچ سال کی قید کی نئی مدت کوان کی پہلی سزا ہی میں شامل کیا جائے گا جو یہ قیدی پہلے ہی بھگت رہے تھے۔ ان افراد کی مدد کرنے کے الزام میں پانچ دیگر قیدیوں کو مزید چار سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسرائیل ملک کے شمال میں واقع گلبوآ جیل سے فرار ہونے والے تمام چھے فلسطینی مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قراردیتا رہاہے۔ان میں سے پانچ کا تعلق فلسطینی مزاحمتی گروپ جہاداسلامی سے ہے۔ان میں سے چارعمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ چھٹا زکریا زبیدی فلسطینی صدر محمودعباس کے سیکولر الفتح گروپ کا رکن ہے۔

زبیدی 2000ء کی دہائی کے اوائل میں دوسری فلسطینی انتفاضہ کے دوران میں ایک عسکریت پسند رہنما تھے اور اسرائیل میں اپنی عسکریت پسندی کی سرگرمیوں اور میڈیا پرآئے دن انٹرویو دینے کی وجہ سے مشہور تھے۔

فلسطینی اسرائیل کے زیرقبضہ قیدیوں کو اپنے قومی نصب العین کا ہیروسمجھتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے جیل سے مذکورہ قیدیوں کے فرار کا جشن منایا تھااوران کی حمایت میں مظاہرے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں