عراق میں نیا سیاسی بحران، پارلیمنٹ کی بڑی جماعت مستعفی

مقتدیٰ الصدر کی جماعت کا امیدوار وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں چند ماہ قبل ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مضبوط حکومت کے قیام میں ناکامی کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی بحران سامنے آیا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت الصدر تحریک کے سربراہ کے حکم پر جماعت کے تمام ارکان نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا ہے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ مقتدیٰ الصدر کی جماعت الصدر تحریک نے تحریری پیغام میں کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لیے جماعت کے نامزد امیدوار جعفر الصدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کی جانب سے اجتماعی استعفے منظور کرنے کے اعلان کے بعد وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دست بردار ہوگئے ہیں۔

الحلبوسی نے ٹویٹر پر ٹویٹس میں کہا کہ انہوں نے ہچکچاتے ہوئے صدری بلاک کے ارکان پارلیمنٹ کے استعفے قبول کر لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے صدری تحریک کے رہ نما مقتدیٰ الصدر کو جماعت کے ارکان کی طرف سے اجتماعی استعفے واپس لینے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقتدیٰ الصدر نے عراق کی خاطر قربانی دینے کو ترجیح دی نہ کہ کسی معذوری کا اظہار کیا۔

الصدر تحریک کے سربراہ مقتدا الصدر نے اتوار کے روز عراقی پارلیمنٹ میں صدر بلاک کے سربراہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے بلاک کے اراکین کے استعفے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں۔

عراقی خبر رساں ایجنسی نے الصدر کے حوالے سے ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ "صدر بلاک کے سربراہ حسن العذاری کو چاہیے کہ وہ بلاک کے ارکان کے استعفے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کر دیں۔انہوں نے مختصر عرصے تک پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر خدمات انجام دینے پر جماعت کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ قدم وطن اور عوام کی خاطر انہیں نامعلوم انجام سے نجات دلانے کے لیے ایک قربانی تصور کیا جائے۔ ہم نے عراق کی آزادی، اس کی خودمختاری، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے پہلے بھی قربانیاں دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں